Al-Risala · September 1994 · page 35

It all depends on me.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۵

کھڑی ہو جاتی ہے تاکہ مزید آنے والے بچوں کی مدد کر سکے۔

دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں سڑکوں پر جگہ جگہ یہ انتظام کیا گیا ہے۔ کم آمدنی والی معمر خواتین معمولی معاوضہ پر یہ کام کرتی ہیں۔ ان کے جسم کا سنہری مائل کپڑا ان کی اس حیثیت کی علامت ہوتا ہے۔ صبح کے وقت جب بچے اسکول جاتے ہیں اور دو پہر بعد جب وہ لوٹتے ہیں، دونوں وقت یہ خواتین سڑک پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان کے نشان کو دیکھ کر تمام سواریاں فوراً رک جاتی ہیں۔ ایسی خاتون کو اسکول کراسنگ گارڈ کہا جاتا ہے۔

مذکورہ خاتون کو اپنے کام کی ادائیگی میں بیک وقت دو پہلوؤں کا لحاظ کرنا تھا۔ ایک طرف گاڑیوں کا اور دوسری طرف بچوں کا۔ بوڑھی خاتون نے اس کام کو اتنی پھرتی، اتنی باقاعدگی اور اتنے منظم انداز میں کیا کہ میں اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں نے سوچا کہ انگریزوں کی عالمی کامیابی کا راز یہ تھاکہ انھوںنے اپنی پوری قوم، حتی کہ عام مردوں اور عورتوں تک کے اندر ڈسپلن کی صلاحیت کمال درجہ میں پیدا کر دی۔

دوسری عالمی جنگ (۱۹۴۵-۱۹۳۹) کے دوران سرونسٹن چرچل برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ وہ عام طور پر شدت پسند لیڈر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ مگر ان کی زندگی میں بہت سی قابل قدر مثالیں ملتی ہیں۔ ایک بوڑھے برطانی شخص نے مجھے بتایا کہ چرچل نے دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں برطانی قوم کو جو ماٹو دیا وہ تھا ۔ ۔۔۔۔۔ سب کچھ میرے اوپر منحصر ہے :

It all depends on me.

یہ بلاشبہ ایک بہترین ماٹو ہے۔ یہ جنگ اور امن دونوں حالتوں کے لئے یکساں طور پر مفید ہے۔ میرے بھائی عبد المحیط خاں انجینئر نے بتایا کہ ایک بار وہ چنڈی گڑھ کے ایک ٹریننگ کیمپ میں شریک ہوئے۔ یہ کیمپ پالٹی ٹکنیک کے پرنسپلوں کی ٹریننگ کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ اور ایک انگریز پروفیسر کو اس میں لکچر دینے کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس کا افتتاح ایک ہندوستانی منسٹر کو کرنا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page