Al-Risala · September 1994 · page 44

Do you feel you are enjoying mental peace.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴

ترهبون به عدو الله وعدوكم (الانفال ٦٠ ) اس آیت میں ترهبون کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوت کے اندرارہ باب کی صفت ہونی چاہئے۔ گویا قوت وہ ہے جو قوت مرہبہ ہو۔

میں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام میں بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ کیا اہل عالم اس سے خوف زدہ ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بعض نادان لوگ یورپ یا امریکہ کے کسی اخبار میں مسلم فنڈ منٹلزم یا صغوة اسلامیہ کے خلاف کوئی مضمون پڑھ کر کہتے ہیں کہ دیکھو، مغرب ہماری ان سرگرمیوں سے خوف زدہ ہے۔ میں نے ایک امریکی سے ایک بار اس بارہ میں گفتگو کی۔ اس نے کہا کہ یہ لوگ کہ سے کم کوئی از عاج (nuisance) تو پیدا کرہی سکتے ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہم کو کیا درجہ دے رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ ہمیں موجودہ دور کو سمجھنا چاہئے۔ اس دور میں جو چیز قوت مرہبہ کی حیثیت رکھتی ہے وہ صرف علم ہے۔ خاص طور پر سائنسی علم۔ اس لئے اس آیت کے مطابق، مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ وقت کی قوت مرہبہ (علم) حاصل کریں۔ اس کے بغیر موجودہ دنیا میں ہم کو با وزن حیثیت نہیں مل سکتی۔

ستمبر ١٩٩٢ کی ۲۳ تاریخ ہے۔ میں وگن میں اپنی قیام گاہ کے اوپر کے کمرہ میں بیٹھا ہوں۔ یہ مکان ایک شاہراہ کے کنارے واقع ہے۔ سڑک پر دونوں طرف گاڑیوں کا لامتناہی سیلاب بہہ رہا ہے سامنے تکونی چھتوں (۸) کے مکانات کی قطاریں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف پارک ہے جس میں دور تک درختوں کا منظر پھیلا ہوا ہے۔ اپنی کھڑکی سے ان مناظر کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ یہی وہ قوم ہے جو کبھی برطانیہ عظمی کہی جاتی تھی۔ اس نے دنیا کے اتنے بڑے حصہ میں اپنا اقتدار قائم کر لیا تھا کہ کہا جانے لگا کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ میں سوچنے لگا کہ آخر اس قوم کی وہ کون سی صفت تھی جس نے اس کو اتنے وسیع رقبہ میں اتنی بڑی سلطنت قائم کرنے کے قابل بنایا۔ اتنے میں سڑک پر ایک معمر خاتون ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے جسم پر سیاہ رنگ کا کوٹ ہے۔ اپنے ہاتھ میں وہ لاٹھی جیسی ایک لمبی لکڑی لئے ہوئے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page