Oh, it is alright. I am sorry.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴
اس قسم کی ہزاروں مختلف باتیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہاں کی حکومت عدل اور انسانیت کی حکومت ہے۔ مگر شاید ہی کوئی مسلمان اس کااعتراف کرتاہواملے گا۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ رشدی کو سزا کیوں نہیں دیتا۔ وہ بوسنیا کے معاملہ میں مداخلت کیوں نہیں کرتا۔ وغیرہ۔ بعض ذاتی شکایت کی بنا پر وہ نظام کی خوبیوں کا انکار کر رہے ہیں۔ یہ ابو لولو فیروز کی سنت ہے نہ کہ صحابہ کی سنت۔ صحابہ جب ہجرت کر کے حبش گئے تو انھوں نے وہاں کے کسی بادشاہ کے عدل کا اعتراف کیا اور اس کے لئے دعائیں کیں۔ جب کہ ابو لولو مجوسی کا یہ حال ہوا کہ وہ عمر فاروق کے بے مثال عادلانہ نظام کو دیکھنے کے لئے اندھا ہوگیا۔ اس کو صرف اپنی ذاتی شکایت نظر آئی، اور وہ بھی اتنی مبالغہ آمیز انداز میں کہ اس نے عمر فاروق جیسے عادل حکمراں کو قتل کر دیا۔ ایک عرب نوجوان نے بتایا کہ جون ۱۹۹۲ میں وہ مانچسٹر میں تھے۔ اس وقت مانچسٹر کی جامع مسجد میں نو مسلم انگریز یوسف اسلام کی تقریر ہوئی ۔ وہ بوسنیا کا دورہ کر کے ابھی واپس آئے تھے۔ انھوں نے اپنی انگریزی تقریرمیںجوکچھ کہااس کاخلاصہ عرب نوجوان کے الفاظ میں یہ تھا : إِنَّ الشیٔ الَّذِیْ جَعَلَ المسلمین مستضعفین هو ذهاب الخلافة۔ فان كانت الخلافة قائمة لما استطاع احدان يفعل بهم هذا ۔ لان الخلافة الاسلامية ستكون لها ايدٍ تمتد لتحمى المسلمین فى كل مكان۔ فلابد من اقامة الخلافة فهي الحل لكل ما حل بالمسلمین من ضعف وهوان۔ والاستكون النتيجة هي اليوم بوزنیاوغداًبریطانیا۔
میں نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ ذہاب خلافت نہیں بلکہ ذہاب عصر ہے۔ ترکوں نے خلافت کو ”تلوار“ کے زور پر قائم کیا تھا۔ جب تک تلوار کا دور رہا، خلافت بھی باقی رہی۔ جب تلوار کا دور ختم ہو گیا تو ترکوں کی خلافت بھی ختم ہوگئی۔ اب علم کی طاقت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بے زور ہو جانے کا سبب یہ ہے کہ ان کے پاس وقت کا زور (علم) موجود نہیں۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ علم کی طاقت حاصل کرنے کا ہے نہ کہ بے فائدہ طورپرمفروضہ دشمنوںکے خلاف ایسی جنگ چھیڑنے کا جس کا نتیجہ خود اپنی مزید بربادی کے سوا کسی اور شکل میں نکلنے والا نہیں۔ یوسف اسلام نے جو بات کہی وہ ان کی اپنی بات نہیں۔ یہ دراصل ان مسلمانوں کی بات ہے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues