Al-Risala · September 1994 · page 38

Oh, it is alright. I am sorry.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸

جن کے درمیان وہ قبولِ اسلام کے بعد اپنے کو پا رہے ہیں۔ ہر چیز کہ در کان نمک رفت نمک شد عبد العزیز حدو حدّو(۲۴سال)المغرب المغرب (الدارالبیضاء)کے کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ لندن میں کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ ۲۱ ستمبر کو ایک انگریز نو مسلم کو لے کر میری رہائش گاہ پر آئے۔ اس سفید فام انگریز نو جوان کی عمر ۲۱ سال تھی۔ انھوں نے جولائی ۱۹۹۲ میں اسلام قبول کیا ہے۔ ان کا اسلامی نام عبد الکریم ہے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے:

Christian James Stone 27 Horsford Rd. Brixton SW2 5BW, London. میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کیوں اسلام قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اسلام اس لئے قبول کیا کیوں کہ اسلام معیاری اور عقلی فہم عطا کرتا ہے۔ بچپن میں اور بڑا ہونے کے بعد میں اکثر تنہا سوچتا رہتا تھا۔ جب مجھے اسلام کا علم ہوا تو اس نے میری سوچ کی تکمیل کر دی :

I embraced Islam because Islam makes perfect, rational sense. As a child and adolescent I spent much time alone, just thinking. When Islam was explained to me, it complemented to what I thought. میں نے کہا کہ مسیحیت کا عقیدہ (مثلاً ٹرینیٹی) عقلی طور پر ناقابلِ فہم ہے۔ وہ اس بدیہی حقیقت کے خلاف ہے کہ جو چیز تین ہو وہ ایک نہیں ہو سکتی ، جو چیز ایک ہو وہ تین نہیں ہو سکتی۔ اس لئے مسیحی حضرات میں جو لوگ زیادہ سنجیدہ ہوں وہ سخت ذہنی تضاد میں مبتلا رہتے ہیں۔ کیوں کہ اگر وہ عقل کو لیں تو مذہب چھوٹتا ہے، اور اگر مذہب کو لیں تو عقل ساتھ نہیں دیتی۔ انھوں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں مسیحی باقی رہتا تو میرا خیال ہے کہ میں یا تو پاگل ہو جاتا یا منافق بن جاتا تاکہ مسیحی معاشرہ میں رہ سکوں: If I was Christian I imagine that I must either be mad or hypocrite to exist in society. ان سے دیر تک گفت گو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ایک روز وہ اپنے والد کے یہاں گئے۔ کھانے پر گوشت تھا۔ انھوں نے گوشت نہیں لیا۔ والد نے اصرار کیا تو اپنے اسلام کو چھپانے کے لیے کہا کہ میں رویجیٹین ہوں اور بالغ گوشت کے لئے اصرار کرتے رہے تو انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page