Al-Risala · September 1994 · page 45

Father Chrismas, get me a computer.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۵

احوال العالم المعاصر میں اس کو مغرب کی شیطانی سیاست کے ایک اصول کے طور پر ذکر کیا ہے، اور اس کا ترجمہ التدرج البطیٔ الاکید المفعول (صفحه ۹) کیا ہے۔ مگر میرے خیال سے اس کا اس کا صحیح مفہوم ان الفاظ میں ادا ہوتا ہے : بطی و انما مؤكد یا بطی ولكن مؤكد۔ انگریز صدیوں سے اسی اصول پر عمل کر رہے ہیں۔ اور ان کی کامیابی کا کم از کم ایک راز یہ بھی ہے اس مقولہ کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی تم کوئی اقدام کرو تو خواہ تمہارے سفر کی رفتار کتنا ہی سست ہو، مگر اس بات کا پورا اہتمام کرو کہ ہر قدم یقینی طور پر نتیجہ خیز ہو۔ غور کیجیے تو موجودہ مسلمانوں کا ذہن اس کے بالکل خلاف ہے۔ ان کا اصول برعکس طور پر یہ ہے کہ تیزی کے ساتھ بڑے بڑے اقدام کرو، خواہ عملی طور پر اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والانہ ہو۔ مذکورہ مثل کوئی غیر اسلامی مثل نہیں۔ یہ فطرت کی زبان میں عین وہی بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے : فاصبر ... ولا تستعجل لهم ( الاحقاف ۳۵ ) عجلت سے بچتے ہوئے صابرانہ عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی جذباتی انداز میں دوڑ پڑنے کے بجائے سوچ سمجھ کر عمل کرے۔ اور ایک ایک قدم پختہ کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں تجسم کی سرگرمیاں ہیں مگر ان کے یہاں صبر اور عدم استعجال موجود نہیں ۔ ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر اقدام الٹا پڑتا ہے۔ قربانیوں کے پہاڑ کھڑے کرنے کے باوجود موجودہ زمانہ میں وہ کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

۲۴ ستمبر کو وگن میں ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی ملاقات ایک نومسلم انگریز سے ہوئی۔ اس وقت ان کے پاس اسلام ایز اٹ از (Islam as it is) کا ایک نسخہ موجود تھا۔ انہوں نے اس کتاب سے آخرت کا باب نومسلم انگریز کو پڑھایا۔ پڑھنے کے بعد اس نے اپنا تاثر ایک کاغذ پر لکھ دیا۔ یہ تاثر اس کے اپنے الفاظ میں یہ تھا :

This is very good. This is based on reason. I haven’t read any other book free of any sentimental emotional plea to belief in the hereafter. ایک مغربی نومسلم سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے گاڈارائینز (God Arises) کا مطالعہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب میں نے اس کتاب کو پڑھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ یہ وہی کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page