۲۴ الرسا ل ستمبر ۱۹۹۲
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۶
ہے جس کا میں انتظار کر رہا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے کئی تعلیم یافتہ مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا اسلامی لٹریچر کے ذخیرہ میں گاڈ ارائزر جیسی اور کتابیں پائی جاتی ہیں، جو اسلام کی تعلیمات کو علمی اور عقلی دلیل کے ساتھ بیان کرتی ہوں۔ مگر کوئی شخص مجھے اس قسم کی کسی اور کتاب کا سراغ نہ دے سکا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ قرآن تو سراپا عقلی کتاب ہے۔ وہ عقل کو مخاطب کر کے اپنا پیغام دیتا ہے۔ مگر آجکل کے مسلمانوں کے ذہن سے یہ پہلو مخفی ہو گیا۔ وہ عقلی دلیل اور عقل کو مطمئن کرنے والے اسلوب میں دین کے داعی نہ بن سکے ۔ ورنہ ایسی بہت سی کتا بیں اسلامی کتب خانہ میں موجود ہوتیں۔ آج کا انسان عقلی اطمینان کے بعد کسی عقیدہ کو اختیار کرتا ہے اور ہمارے پاس عقل کو مطمئن کرنے والی کتابیں نہیں۔ اس کے بعد انھوں نے عجیب انداز میں کہا کہ جب میں نماز پڑھتا ہوں اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہوں تو اکثر میری زبان سے اس قسم کے الفاظ نکلتے ہیں : Oh, Allah, help us to do intellectual jihad. And bring the rational ۲۴ ستمبر کی شام کو وگن سے واپسی ہوئی۔ یہاں سے بذریعہ ٹرین مجھے برمنگھم پہنچناتھا۔ دوعرب نوجوان جو ریلوے اسٹیشن تک مجھے پہنچانے آئے تھے۔ وہ میرے ساتھ ڈبہ میں داخل ہو گئے۔ وہ اترنا چاہتے تھے کہ ڈبہ کا دروازہ بند ہو گیا۔ یہاں ٹرین کے دروازہ کو ڈرائیور کھولتا ہے اور وہی بند کرتا ہے۔ ان لوگوں کے پاس ٹکٹ نہیں تھا۔ ہندوستانی تجربہ کے تحت مجھے تشویش ہوئی ۔ مگر ٹکٹ چیکر آیا تو اس نے پوچھ گچھ کی نہ جرمانہ لگایا۔ سادہ طور پر اس نے کرایہ لے کر وہی ٹکٹ دے دیا۔ جو اسٹیشن پر نہیں ملتا ۔ ملتا۔ اورپھر تھینک یوکہہ کرآگے بڑھ گیا۔
ٹرین نہایت صاف ستھری تھی۔ سیٹ سے لے کر ٹائیلٹ تک ہر چیز بالکل ہوائی جہاز کے انداز کی نظر آئی۔ میں نے کہا کہ یہ ٹرین تو گویا زمین پر دوڑتا ہوا ہوائی جہاز ہے۔ ڈبہ میں جگہ جگہ نو اسمو کنگ کا اعلان لگا ہوا تھا جس کے اوپر لکھا ہوا تھا کہ اس کی خلاف ورزی پر پچاس پونڈ جرمانہ ہے۔ یعنی ہندوستانی روپیہ میں تقریباً ڈھائی ہزار روپیہ۔ ایک طرف ایک خوبصورت کیس میں ایک خوبصورت ہتھوڑارکھا ہوا تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ ایمرجنسی کی حالت میں کھڑکی کے شیشہ کو توڑنے کے لئے اس ہتھوڑے کو استعمال کیجئے :
۲۴ الرسا ل ستمبر ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues