۲۴ الرسا ل ستمبر ۱۹۹۲
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸
سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔
پانچ جنیہ (ہندی ہفت روزہ) کے ایڈیٹر مسٹر ترن وجے نے ۲۰ اپریل ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلیفون پر ریکارڈ کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمان مرد اگر انصاف لینے کے لئے ملکی عدالتوں میں جاتا ہے تو مسلمان عورت بھی انصاف لینے کے لئے ملکی عدالت میں جا سکتی ہے۔ یہ اسلام کے خلاف نہیں۔
نئی دہلی کی تنظیم (Movement for National Resurgence) کے تحت ۲۳ اپریل ۱۹۹۴ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک سیمینارہوا۔ اس اس کا موضوع بحث یہ تھا (are the police above the law) اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور کیا پولیس قانون سے بالا ہے کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ۸۔ یواین آئی کی نمائندہ مسٹر نصرت نے ۲۴ اپریل ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق زیادہ تر جسٹس تلہری کے تازہ فیصلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مذہبی قانون کی تعبیر کا حق ہمیشہ مذہبی علماء کوہوتاہے کسی عدالت کو اس کا حق حاصل نہیں۔
انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر(نئی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر پر مود نے ۲۵ اپریل ۱۹۹۴ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ یونیفارم سول کوڈ موجودہ حالت میں چلنے والا نہیں ہے کیوں کہ ہندوستانی سماج عام طور پر اتنا زیادہ روایت پرست ہے کہ وہ اس معاملہ میں کسی بھی خارجی قانون کو قبول نہیں کرے گا۔ ۱۰۔ دینک جاگرن کے نمائندہ مسٹر ارن کمار پا نڈے نے ۲۵ اپریل ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق قرآن کی ان آیتوں سے تھا جن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں غلام ہوں گے۔ اس کا انھوں نے نہایت غلط مطلب لے رکھا تھا۔ انھیں اس آیت کی صحیح تشریح بتائی گئی اور ان کی غلط فہمی دور کی گئی۔
یوپی بھون (نئی دہلی) میں ۲۸ اپریل ۱۹۹۴ کو امرت کلش کے سمپا دک منڈل کی میٹنگ ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس کے ڈسکشن میں شریک ہوئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues