اسلامی اقدام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۷
اسلامی اقدام
ذاتی اصلاح کے بعد اسلام کا مثبت اقدامی عمل صرف ایک ہے، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ یہی وہ کام ہے جس کو قرآن میں جہاد کہا گیا ہے۔ جہاد سے مراد اصلاحِ دعوت ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا: وجاہد هم به جہاداً كبيراً. (الفرقان (۵۲)
قتال یا جنگ اسلام میں کوئی مثبت اقدامی عمل نہیں۔ قتال صرف آخری درجہ میں اس وقت کیا جاتا ہے جبکہ دفاع کے تحت اس کی شدید ضرورت پیش آگئی ہو۔ اس ضرورت کو بھی اس نوعیت کا ہونا چاہئے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار اس وقت سرے سے باقی نہ رہے۔
رسول اور اصحاب رسول کی زندگی میں بعض ایسی مثالیں ہیں جب کہ قتال کا عمل اقدام کا ایک عمل معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس کی حیثیت صرف استثنا کی ہے۔ اور را استثناء کو عمومی حکم نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کی ایک مثال غزوہ بدر کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے خصوصی حکم کے تحت بدر کے مقام پر منکرین مکہ کے خلاف جنگ کی۔ یہ ایک استثنائی فعل تھا جس کا تعلق صرف پیغمبر سے تھا یہ دراصل اتمام حجت کے باوجود نبوت کے انکار پر خدا کی سنت کا اجرا تھا۔ عام پیغمبروں کے لئے اس سنت کا اجرا زمینی یا آسمانی آفت کے ذریعہ ہوا اور پیغمبر آخر الزماں کے منکرین کے لئے اہل ایمان کی تلواروں کے ذریعہ۔ اس کی دوسری مثال فتح مکہ کے لئے رسول اللہ کا اقدام تھا جو عرب کی فتح کا ذریعہ بنا، یہ بھی ایک استثنائی واقعہ تھا۔ اس کا تعلق اس خصوصی مصلحت سے تھا کہ مکہ میں دین توحید کے سوا کسی اور دین کو رہنے نہ دیا ۔ جائے الا يجتمع دينان في جزيرة العرب) موطا الامام مالک، ۴۴۷ تیسری مثال رومیوں اور ایرانیوں کے خلاف جنگ ہے۔ تاہم یہ بھی ایک استثنائی واقعہ ہے۔ اس کا تعلق اس سے نہیں کہ اسلام کا اقدامی عمل کیا ہے۔ اس کا تعلق اس خصوصی مقصد سے تھا جس کو قر آن میں استیصال فتنہ کہا گیا ہے (الانفال (۳۹) یعنی مذہبی تعذیب کو ختم کر کے مذہبی آزادی کا دور لے آنا۔ عمومی حکم کو وقتی استثنا کی حیثیت دینا جس طرح درست نہیں اس طرح یہ بھی یقینی طور پر درست نہیں کہ ایک حکم کو جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے استثناء ہو اس کو عموم کی حیثیت دیدی جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues