Al-Risala · October 1994 · page 8

داعی اور مدعو

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۸

داعی اور مدعو

مسلمان کی حیثیت موجودہ دنیا میں کیا ہے۔ قرآن کے مطابق، مسلمان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ دنیا کی قوموں کے اوپر اللہ کے دین کے گواہ ہیں (لتكونوا شھداء على الناس)، اہل اسلام کی حیثیت کے بارہ میں یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے کہ: المؤمنون شھداء الله في الأرض (فتح الباری۳؍۲۷۰) بشرح صحیح البخاری ۲۹۹/۵) دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: انتم شهداء الله في الارض (فتح الباری گواہی یا شہادت سے مراد وہی چیز ہے جس کے لئے دوسرے مقام پر دعوت الی اللہ یا تبلیغ الا نازل اللہ کے الفاظ آئے ہیں۔ شہادت کا لفظ اس عمل کے اخروی پہلو کو بتارہا ہے۔ جو لوگ دنیا میں کسی قوم کے اوپر دعوت و تبلیغ کا کام اس کی تمام شرطوں کے ساتھ انجام دیں گے، ان کو مزید یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ قیامت میں جب اس قوم کے ابدی انجام کا فیصلہ ہوگا تو وہاں وہ ان کے سامنے خدائی گواہ کے طور پر کھڑے کئے جائیں گے۔

مسلمان کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ ان کے اندر داعی والا کردار ہو۔ وہ دوسری قوموں کو مدعو کے روپ میں دیکھیں۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے نہ کہ قومی حریف اور سیاسی رقیب کا رشتہ۔

قومیں آپس میں مادی اور سیاسی مفاد کے لئے ریشہ کشی کرتی ہیں۔ مگر مسلمان کے لئے اس قسم کا قومی سلوک کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ مسلمان کو اس دنیا میں ایک بامقصد اور ایک صاحب نظریہ گروہ کی حیثیت سے رہنا ہے۔ اس کا مزاج دوسری قوموں سے لینے کا نہیں بلکہ دوسری قوموں کو دینے کا ہونا چاہئے۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں اور زیادتیوں کو برداشت کرے۔ وہ تمام لوگوں کے ساتھ یکطرفہ حسن سلوک کامعاملہ کرے۔ اس اس کی ساری توجہ پیغام رسانی پر ہو نہ کہ حقوق طلبی پر۔ وہ دنیا میں خیر خواہ اقوام بن کر رہے۔ وہ دنیا کے لوگوں کو مادہ پر ہر بان کی نظر سے دیکھے۔ وہ اپنے لئے جینے کے بجائے دوسروں کے لئے جینے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page