اسلامی سلوک، اسلامی حکومت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۱
اسلامی سلوک، اسلامی حکومت
سعودی ہفت روزہ "المجلۃ" جس کا ہیڈ کوارٹر جدہ میں ہے اور وہ لندن سے چھپتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۲ - ۱۸ جون ۱۹۹۳ میں ولید صالح النمی کی تحریر چھپی ہے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ عرب ہیں اور اس وقت جار جیا (امریکہ) میں رہتے ہیں۔ ان کی تحریر کا خلاصہ ان کے اس جملہ میں ہے: اسلام ہماری قدیم و جدید مشکلات کے حل پر قادر ہے (الاسلام قادر علی حل جمیع مشكلاتنا القديمة والحديثة، صفحه ۹۲ اسی طرح ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا ایک انٹرویو (حوار) ریاض کے عربی ماہنامہ الفیصل (ذوالحجہ ۱۴۱۴ھ)میں میں چھپا ہے۔ انھوں نے کسی قدر مختلف الفاظ میں دوبارہ یہی بات کہی ہے کہ اسلامی حل ہی مسلمانوں کو تخبط اور اضطراب اور ذلت اور عار سے نجات دے سکتا ہے (الحل الاسلامي ينقذ الامة من تخبطها و اضطرابها وذلها وعارها اس کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ اسلام کو عقیدہ سے لے کر تشریعات اور جمیع قوانین تک مکمل طور پر قائم اور نافذ کیا جائے۔ (صفحه ۵۲) مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل اسلام میں ہے۔ مگر اس سے مراد اسلامی حکومت نہیں ہے بلکہ اسلامی سلوک ہے۔ اگر مسلمانوں میں صحیح اسلامی فکر، اسلامی اسپرٹ اور اسلامی کردار پیدا ہو جائے تو یقیناً ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر جب اسلامی نظام کے قیام یا اسلامی قوانین کے نفاذ کو ان کے مسائل کا حل بتایا جائے تو بات بالکل الٹ جاتی ہے۔ کیوں کہ موجودہ حالات میں اس قسم کی کوشش صرف مسائل و مشکلات میں اضافے کرنے والی ہے، جیسا کہ بالفعل ساری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔
اسلامی حکومت کے قیام یا اسلامی قوانین کے نفاذ کی مہم لے کر اٹھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے غیر ضروری ٹکراؤ پیش آ جاتا ہے۔ اس طرح مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اسلامی سلوک کو اختیار کیا جائے تو کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا اور مسائل اچانک گھٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسلامی سلوک کی بنیاد محبت پر ہے، اور محبت فاتح عالم ہے۔ حکومت سے ٹکراؤ کی بنیاد نفرت پر ہے۔ اور نفرت تمام برائیوں کا سب سے بڑا سبب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues