انتہا پسندی کا نتیجہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۲
انتہا پسندی کا نتیجہ
موجودہ زمانہ میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں وہ اپنے بیان کردہ مقصد (اسلامی نظام کا قیام) کو تو حاصل نہ کر سکیں البتہ انھوں نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو ایک عظیم مصیبت میں مبتلا کر دیا۔ ان تحریکوں کے پیدا کردہ نام نہاد انقلابی مزاج کی بنا پر موجودہ مسلمانوں کا یہ حال ہو رہا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ساری دنیا میں ان کے لئے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا ہلاکت یا منافقت۔ یا تو وہ حاصل نہ ہونے والے ایک نشانہ کے لئے نظام حاضر سے لڑ کر اپنے آپ کو تباہ کر دیں۔ یا نظام حاضر کو باطل سمجھتے ہوئے منافقانہ طور پر اس کے ساتھ موافقت کر کے رہیں ۔ دین رحمت خود مسلمانوں کے لئے دین زحمت بن گیا۔
ان انقلابی تحریکوں نے یہ غلطی کی کہ عقیدہ اور سیاسی نظام کو ایک کر دیا۔ اسلام میں عقیدہ اورانفرادی طورپرمتقیانہ عمل ہر شخص سے ہر حال میں مطلوب ہے۔ جہاں تک اجتماعی سیاسی نظام کا تعلق ہے، اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسلام کے سیاسی نظام کو قائم کرنے کی ذمہ داری صرف اس وقت مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے جب کہ وہ بالفعل اس کو قائم کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ ورنہ سیاسی نظام کو قائم کرنا اسی طرح مسلمانوں کے لئے غیر مطلوب رہے گا جس طرح صاحبِ نصاب نہ ہونے کی صورت میں کسی مسلمان سے زکٰوۃ کی ادائیگی غیر مطلوب رہتی ہے۔
قرآن و حدیث کے مطابق یہی اسلام ہے۔ اس میں مسلمان کسی ایسی چیز کے مکلف نہیں قرار پاتے جو ان کے بس میں نہ ہو۔ وہ ہر ماحول میں اس اساسی اسلام کو اختیار کر کے مطمئن رہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ کے دین پر قائم ہیں۔
لیکن اسلام کی نام نہاد انقلابی تفسیر نے مسلمانوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ صرف عقیدہ اور انفرادی کردار نجات کے لئے کافی نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ باطل قوتوں سے لڑ کر ساری دنیا میں اسلامی قانون کی حکومت قائم کریں۔ اس خود ساختہ نظریہ نے مسلمانوں کو ہر جگہ قائم شدہ حکومتوں سے ٹکرا دیا۔
چونکہ مسلمان کہیں بھی طاقتور پوزیشن میں نہیں ہیں اس لئے اس بنا پر ان کے لئے صرف
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues