صحتِ فکر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۱
صحتِ فکر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے : :اَللّٰھُمَّ اَرِنَاالْحَقَّ حقّاً وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وارزقنااجتنابہ وارناالاشیاء کماھی(اے (اے اللہ، حق کو ہمیں حق کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس کی پیروی کی توفیق دے۔ اور باطل کو ہمیں باطل کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے۔ اور چیزوں کو ہمیں ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں) یہ گویا صحتِ فکر کی دعا ہے۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لئے یہاں ہر چیز پر التباس کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ کوئی بات جب آدمی کے سامنے آتی ہے تو ہمیشہ اس کا خطرہ رہتا ہے کہ وہ اس کو غلط رخ سے لے لے۔ اور پھر اس غلط تاویل کے لئے اس کو خوبصورت الفاظ بھی مل جائیں۔ اس فتنہ سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ آدمی رائے قائم کرنے میں بے حد محتاط ہو۔ نیز اس معاملہ میں وہ مذکورہ دعا سے برابر مدد لیتا رہے۔
مثلاً آپ توحیدِ خالص کا نظریہ پیش کریں گے اور سننے والا فورا انسانی بادشاہوں کی مثال دے کر کہنے لگے گا کہ ٹھیک ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ مگر بادشاہوں تک پہنچنے کے لئے درمیانی وسائل ہوتے ہیں۔ اسی طرح خدا تک پہنچنے کے بھی درمیانی وسائل ہیں۔ آپ ایک شخص کے سامنے قرآن کی آیت پیش کر کے کہیں گے کہ دشمن سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ، اس کے بعد تم دیکھو گے کہ دشمن بھی تمہارا اگر دوست بن گیا ہے۔ وہ شخص کہے گا کہ یہ تو تم بے غیرتی کی بات کر رہے ہو۔ ہمیں تو دشمن کو سبق سکھانا ہے، اس کے بغیر وہ اپنی مخالفانہ کارروائی سے باز نہیں آسکتا۔ آپ قرآن و حدیث کا حوالہ دے کر کہیں گے کہ اس دنیا میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے، اور آپ کا مخاطب اس کی تردید میں یہ الفاظ پائے گا کہ یہ تو بزدلی کی تعلیم ہے۔ اسلام کا طریقہ استدام کا طریقہ ہے، اسلام کا طریقہ پس پائی کا طریقہ نہیں۔
چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھنا اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنا، خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس نعمت کے مالک وہی لوگ بنتے ہیں جو غلط تاویلات کے فتنے سے اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues