اسوہ حسنہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰
اسوہ حسنہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم مکہ میں دعوت کا کام شروع کیا تو مکہ کے لوگ ، خاص طور پر وہاں کے سردار آپ کے سخت مخالف ہو گئے۔ انھوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سخت ترین تکلیفیں دیں۔ مگر آپ کو حکم دیا گیا کہ تم کوئی جوابی کارروائی نہ کرو بلکہ صبر کی طرف پر ان کی سختیوں کو نظر انداز کرو (دع اذاھم) اس طرح آپ ۱۳ سال تک صبر کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے۔ انھوں نے تلوار لے کر آپ کے مکان کو گھیر لیا۔ اس وقت بھی آپ نے مقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ اللہ کے حکم سے آپ خاموشی سے مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔
مکہ کے لوگ اب بھی چپ نہیں بیٹھے۔ انھوں نے دھمکیاں دیں کہ وہ مدینہ پر حملہ کریں گے اور اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو ختم کر دیں گے۔ چنانچہ ہجرت مدینہ کے ابتدائی دور میں آپ مہاجرین کے چھوٹے چھوٹے دستے مکہ کے راستوں پر بھیجتے تھے تاکہ مکہ والوں کی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کریں اور ان کے جارحانہ اقدام سے پیشگی طور پر باخبر ہو جائیں۔ رمضان ۲ھ میں ابو سفیان کے تجارتی قافلہ کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی حفاظت کے نام پر قریش کے تقریباً تمام سردار ایک طاقت ور فوج لے کر نکلے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ تجارتی قافلہ کو بچانے کے بعد مدینہ پر حملہ کریں۔ اس اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے براہ راست حکم کے تحت مدینہ سے نکلے۔ اللہ نے خصوصی طور پر فرشتوں کے ذریعہ اہل اسلام کی مدد کی۔ دونوں کے مقابلہ میں اہل مکہ کو زبردست شکست ہوئی۔
اس کے بعد بھی اہل مکہ خاموش نہیں رہے۔ انھوں نے بار بار جارحیت کرنا چاہا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ٹکراؤ سے بچتے رہے۔ تاہم احد اور حنین کے موقع پر وہ یکطرفہ طور پر اہل اسلام پر ٹوٹ پڑے ۔ اس کے نتیجہ میں جنگ واقع ہوئی۔ پیغمبر اسلام کا مقصد مخالفین کو قتل کرنا نہیں تھا بلکہ ان کو اسلام کے دائرہ میں داخل کر کے انھیں اسلام کی طاقت بنانا تھا۔ چنانچہ آپ نے حدیبیہ کے موقع پر یکطرفہ شرائط پر اہل مکہ سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان معتدل فضا قائم ہو اور دعوت کا عمل مؤثرانداز میں جاری ہو سکے۔ صلح حدیبیہ نے اہل اسلام کے لئے دعوت کے مواقع کھول دیئے۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ صرف دو سال کے اندر لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے کہ کسی جنگ کے بغیر صرف عددی طاقت کے ذریعہ اسلام پورے عرب پر غالب آگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues