Al-Risala · October 1994 · page 23

اسلام کی پکار

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۳

ہو گئے۔ اس ٹکراؤ میں واضح اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس طرح انھیں دوبارہ غلبہ کا مقام تو نہیں ملا، البتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کا پہاڑ کھڑا ہوگیا۔ قدیم زمانہ میں بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان لڑائیاں ہوتی تھیں۔ مگر اس زمانہ میں وہ چیز موجود نہ تھی جس کو میڈیا کہا جاتا ہے۔ اس لئے قدیم جنگوں کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود ہو کر رہ جاتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں میڈیا نے اس کو عالمی خبر کی حیثیت دیکر ایک ایک شخص تک اسے پہنچا دیا۔

اب ضرورت ہے کہ پورے معاملے پر از سرِ نو غور کیا جائے۔ اور ان حالات کو پھر سے تاریخ میں واپس لایا جائے جس میں دعوت کا عمل دوبارہ جاری ہوسکے۔ اس کی صورت صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ مسلمان یک طرفہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان جو نفرت اور کشیدگی پیدا ہوگئی ہے وہ اتنی گہری ہے کہ اب اس کو صرف یک طرفہ کارروائی ہی کے ذریعہ روکا جاسکتا ہے۔ نفرت کی یہ فضا کبھی بھی دو طرفہ بنیاد پر ختم نہیں ہوسکتی۔ ایسی حالت میں مسلمانوں ہی کو یہ کرنا ہے کہ وہ یکطرفہ عمل کے ذریعہ اس کے خاتمے کو یقینی بنادیں، تاکہ دعوت کا عمل دوبارہ نارمل حالت میں جاری ہوجائے جس طرح وہ پہلے ساری دنیا میں جاری تھا۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں (داعی اور مدعو) کے درمیان نارمل تعلقات انتہائی طور پر ضروری ہیں۔ نارمل فضا میں ہی یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دوسرے کے نقطہ نظر پر غور کرے۔ یہ ایک ایسی فطری حقیقت ہے جس کی مثالیں ہر طرف بہ آسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس معاملۃ کو سمجھنے کے لئے حال کی ایک سادہ مثال لیجئے۔

۱۳ مئی ۱۹۹۴ء کو دہلی میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان مسٹر منصور سے ہوئی، وہ دہلی کے ایک اسکول (ایئرفورس بال بھارتی) میں پڑھتے ہیں۔ اس وقت وہ بارھویں درجہ کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے اسکول میں جب دو طالب علم آپس میں ملتے ہیں تو امریکی طریقہ کے مطابق وہ ایک دوسرے کو ہاے (Hi) کہتے ہیں۔ مگر ہم چند مسلمان طالب علم جب آپس میں ملتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کو السلام علیکم کہتے ہیں۔ غیر مسلم طلبہ نے جب اس کو سنا تو انھوں نے پوچھا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page