May peace be upon you.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴
کہ یہ تم آپس میں کیا کہتے ہو۔ انھوں نے بتایا کہ یہ عربی کلمہ ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے اوپر سلامتی ہو:
May peace be upon you.
غیر مسلم طلبہ نے اس کو بہت پسند کیا اور کہا کہ گریٹنگ کا یہ کتنا اچھا طریقہ ہے۔ اس کے بعد وہ خود بھی السلام علیکم کہنے لگے۔ حتیٰ کہ بعض طلبہ اتنا متاثر ہوئے کہ کہا کہ ہم تمہارے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ چنانچہ ایک غیر مسلم نوجوان نے خاص طور پر درزی سے اپنے لئے مسلم لباس (شلوار اور قمیض اور ٹوپی) سلوایا اور اس کو پہن کر مسٹر منصور کے ساتھ مسجد میں گیا اور عید کی نماز ادا کی۔ اسی طرح ایک طالب علم نے رمضان کے مہینہ میں ایک روزہ رکھا۔ کئی غیر مسلم طلبہ آپس میں کہنے لگے کہ جھٹکا مت کھاؤ، حلال میٹ کھاؤ، وہ زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ وغیرہ۔
مذکورہ اسکول میں چند مسلمان ہیں۔ باقی سب کے سب غیر مسلم ہیں۔ یہاں بالکل برل ماحول ہے۔ مسلم اور غیر مسلم کشیدگی سے اس کا ماحول یکسر خالی ہے۔ اس فضا کی بنا پر یہاں مسلم طلبہ اور غیر مسلم طلبہ کی ملاقات بالکل فطری ماحول میں ہوتی ہے۔ ان کے درمیان دوری اورتوحش کی دیوار حائل نہیں ہوتی۔ اس کا قدرتی نتیجہ وہ تاثر ہے جس کی مثال اوپر نقل کی گئی۔ معتدل ماحول میں یہ اختلاط (interaction) جو مذکورہ اسکول میں جزئی طور پر پایا جاتا ہے، یہی ماحول اگر پورے ملک میں اور ساری دنیا میں کلی طور پر پیدا ہو جائے تو اپنے آپ اسلام کی اشاعت ہونے لگے۔ اسلام چوں کہ غیرمحرف مذہب ہے اور دوسرے مذاہب سب کے سب محرف مذہب، اس لئے محض سادہ تقابل ہی لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ یہ تقابل معتدل فضا میں پیش آیا ہو۔
نئی اور زیر طبع مطبوعات صفحات قیمت ہندوستانی مسلمان (از ڈاکٹر وحید الدین خاں)
Rs. 40 عظمتِ اسلام Rs. 50 مضامینِ اسلام Rs. 30 کتابِ زندگی Rs. 40 عظیم کلام Rs. 9
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues