Al-Risala · January 1994 · page 50

طلاق اسلام میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۵۰

بتدریج دی جائے ، اور وہ لمبے وقفہ کے بعد مکمل ہو۔ یہی طلاق کا صحیح شرعی طریقہ ہے۔ تاہم ہر قانون کا غلط استعمال (misuse) ہوتا ہے ، اسی طرح کچھ لوگ طلاق کے قانون کا بھی غلط استعمال کرتے ہیں اور ایک ہی مجلس میں بیک وقت اپنی بیوی کو تین طلاق دیدیتے ہیں۔ قانون کے اس طرح غلط استعمال کی صورت میں طلاق دینے والے کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ، اس میں حسب حالات دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اُس کے تین طلاق کو لفظی تاکید پر محمول کرتے ہوئے اسے ایک ہی طلاق مانا جائے ۔ اور اُس کو رجعت کے حق سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی جائے۔

تاہم کسی شخص کو اس کے کیس کی مخصوص نوعیت کی بنا پر اس رخصت سے مستثنی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کی سرکشی پر حاکم اسے تعزیری سزا دے سکتا ہے۔ یا اس کے تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی بھی کر سکتا ہے ، تاکہ وہ اپنے گھر کی بربادی کی صورت میں اپنی غیر ذمہ دارانہ روش کی سزا بھگتے۔ نیز اس کا یہ فائدہ بھی ہے کہ ایسے افراد کے انحراف کے برے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو عبرت ہو اور آئندہ وہ اس قسم کے فعل کو دہرانے سے باز رہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں حضرت عمر فاروق کا انتظامی حکم اس لیے نہیں تھا کہ اس کو عمومی شرعی مسئلے کی مانند مستقل طور پر رائج کر دیا جائے ۔ وہ صرف اس لیے تھا کہ معاشرہ میں شرعی طریقہ سے انحراف کی حوصلہ شکنی ہو اور مشر وع طریقہ پر طلاق دینے کا رواج از سر نو لوگوں کے درمیان قائم ہو جائے ۔ خلیفہ دوم کا حکم ایک وقتی استثناء تھا نہ کہ کوئی مستقل شرعی مسئلہ۔ یہ وقتی استثناء بشرطِ ضرورت آئندہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے جس طرح وہ ماضی میں اختیار کیا گیا۔

تاہم اس کا حق صرف با اختیار حاکم کو ہے۔ یہ در اصل ایک انتظامی حکم تھا، اور انتظامی حکم کا حق صرف منتظم کو ہوتا ہے ، عام آدمی کو ہر گز اس کا حق حاصل نہیں۔ کیوں کہ عام آدمی ان نتائج سے نمٹنے پر قادر نہیں جو اس قسم کے کسی حکم کے نفاذ کے بعد لازماً پیدا ہوتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page