Al-Risala · January 1994 · page 49

طلاق اسلام میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۹

صحابہ کسی ایسی بات پر اتفاق نہیں کر سکتے تھے جو قرآن کے مقرر طریقہ کو بدلنے کے ہم معنی ہو۔ انھوں نے در اصل اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ حاکم کو یہ اختیار ہے کہ بوقت ضرورت وہ استثنائی طور پر کسی فرد خاص کے بارہ میں اس طرح کا ایک فیصلہ دے جو فیصلہ خلیفہ دوم نے اپنے زمانہ میں دیا۔

صحابہ کا یہ اجماع ترمیم شریعت پر نہیں تھا اور نہ ہو سکتا تھا۔ یہ اجماع صرف اس بات پر تھا کہ مسلمانوں کے حاکم کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی صواب دید کے مطابق کسی شخص خاص کے لیے ایک ایسے تعزیری حکم کا نفاذ کرے جو شریعت کے عمومی قانون میں ایک وقتی استثناء کی حیثیت رکھتا ہو۔ حاکم وقت کا یہ حق شریعت میں مسلم ہے، اور نکاح و طلاق کے علاوہ دوسرے امور میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ جیسے قحط کے زمانہ میں چوری پر چور کا ہاتھ نہ کاٹنا۔ ۹۔ آخری بات یہ کہ شریعت میں جس طرح مرد کو تفریق کا حق دیا گیا ہے اسی طرح عورت کو بھی تفریق کا حق حاصل ہے۔ البتہ عورت چونکہ پیدائشی طور پر جذباتی (emotional) واقع ہوئی ہے اس لیے دونوں کے طریق کار میں کسی قدر فرق رکھا گیا ہے۔ اس کی صورت مختصر طور پر یہ ہے کہ مرد کو تفریق کا جو اختیار طلاق کی صورت میں حاصل ہے ، عورت کو وہی اختیار خلع اور تفویض طلاق کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مرد اگر خلع کے لیے راضی نہ ہو تو عورت اپنے معاملہ کو قاضی کے پاس لے جائے گی اور قاضی پوری روداد سننے کے بعد حسب حالات دونوں کے درمیان تفریق کرا دے گا۔

اس کے علاوہ عورت کے لیے ایک اور صورت ہے جس کو نکاح تفویض کہا جاتا ہے۔ یعنی عورت نکاح کے وقت خود یا اپنے وکیل کے ذریعہ اپنے ہو نے والے شوہر سے یہ ضابطہ عہد لے لے کہ شوہر اگر اس کے واجبی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہ ثابت ہو تو عورت کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ خود اپنے فیصلہ سے اس کے ساتھ رشتہ ازدواج کو توڑ دے اور اس سے علیحدہ ہو جائے ۔ اس کی مزید تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ خلاصہ کلام اوپر کی بحث سے معلوم ہوا کہ طلاق کے لیے شریعت کا مقرر طریقہ یہ ہے کہ طلاق الگ الگ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page