Al-Risala · October 1994 · page 25

اقدام، دفاع

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵

اقدام، دفاع

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں جو واقعات پیش آئے ان میں سے ایک واقعہ تھا کہ آپ نے جب فرعون کے سامنے اپنا عصا ڈالا اور وہ اثر دا بن کر چلنے لگا تو فرعون نے کہا کہ یہ جادو ہے اور ہم جوابی جادو کے ذریعہ اس کو باطل ثابت کر دیں گے۔ چنانچہ مصریوں کے قومی تیوہار کے دن مصر کے ماہر جادو گر جمع کئے گئے تاکہ وہ اپنا کرتب دکھا کر حضرت موسیٰ کو شکست دیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مصر کے یہ جادو گر جمع ہوئے تو انھوں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ تم پہلے اپنا عصا ڈالو گے یا ہم جوڈالنا چاہتے ہیں اس کو ہم پہلے ڈالیں۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ تم ہی پہلے ڈالو۔ چنانچہ انھوں نے اپنی ساری رسیاں اور لکڑیاں میدان میں ڈال دیں جو سانپ کی مانند چلتی ہوئی نظر آنے لگیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ اثر دھا بن کر سب کو نگل گیا (اعراف ۱۷-۱۱۵) یہ حضرت موسیٰ کا وہ طریقہ تھا جو آپ نے جادوگروں سے عملی مقابلہ کے وقت اختیار کیا۔ مگر دعوت کے موقع پر آپ کی روش اس سے مختلف تھی۔ جب آپ داعی کی حیثیت سے فرعون کے دربار میں گئے تو آپ نے فرعون سے یہ نہیں کہا کہ پہلے تم اپنا نظریہ بیان کرو، اس کے بعد میں اپنا پیغام تمہارے سامنے رکھوں گا۔ بلکہ آغاز کر کے خود ہی آپ نے اپنا پیغام اس کے سامنے پیش کر دیا۔ اس فرق سے پیغمبرانہ طریق کار کا ایک بنیادی اصول معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر اپنے مخالفین کے ساتھ عملی مقابلہ کے لئے کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ صبر و اعراض کی روش پر قائم رہتے ہوئے آخر وقت تک فریق مخالف کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہو اس وقت پیغمبر اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کے مقابلہ پر آتا ہے اور اللہ کی مدد سے اس کو زیر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

مگر نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں پیغمبر خود پہل کرتا ہے۔ یہاں پیغمبرکاطریقہ یک طرفہ طور پر اپنی طرف سے آغاز کرنے کا ہے۔ پیغام رسانی کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ دفاع کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page