اختلاط کی ضرورت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۸
۱۹۴۷ سے پہلے کسی مسلم یا ہندو کے گھر میں ایسی بات نہیں کہی جاتی تھی مگر آج ایسی باتیں عام ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پہلے ہندو یا مسلم اچھے ہوتے تھے، اور اب دونوں خراب ہو گئے ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ باہمی تعلقات کا نہ ہونا ہے۔ ہر انسان بنیادی طور پر اچھا ہی ہوتا ہے۔ مگر جب باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں تو حقیقی واقفیت کی جگہ بدگمانیاں جنم لینے لگتی ہیں جو دھیرے دھیرے دونوں کی نظر میں ایک دوسرے کی تصویر کو بگاڑ دیتی ہیں۔
۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان بڑی حد تک زراعتی دور میں تھا۔ تعلیم کے لئے روایتی ادارے قائم تھے۔ اس وقت ہندو اور مسلمان دونوں یکساں طور پر ان میدانوں میں شریک تھے۔ تعلیمی اداروں اور زراعتی سرگرمیوں میں دونوں فرقے کے لوگ برابر آپس میں ملتے رہتے تھے۔ یہ اختلاط دونوں کے لئے براہ راست طور پر ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔
۱۹۴۷ کے بعد جو تعلیمی اور صنعتی انقلاب آیا اس میں ہندو اور مسلمان دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو کر رہ گئے۔ موجودہ تعلیمی اور صنعتی اداروں میں آپ جائیں تو آپ دیکھیں گے وہاں ہندو بھرے ہوئے ہیں اور مسلمان بہت کم صرف خال خال نظر آتے ہیں۔
۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں باہمی واقفیت کا ذریعہ باہمی ملاقاتیں تھیں۔ ۱۹۴۷ کے بعد کے دور میں دونوں کے لئے ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ زیادہ تر اخبارات بن گئے۔ دور اول کی ملاقاتوں میں کسی فرد یا فرقہ کی پوری تصویر سامنے آتی تھی۔ مگر اخبارات اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے زیادہ تر بری باتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ کیوں کہ اخباری مصلحت کے لئے وہی زیادہ کار آمد ہیں۔ اس بنا پر اخباری تعارف میں دونوں فرقہ ایک دوسرے کی صرف بری باتوں کو جانتا ہے۔ وہ ان کی اچھی باتوں سے واقف نہیں ہوتا۔
تعلیمی اور صنعتی دور میں پچھڑے پن کی وجہ سے مسلمان دوسری قوموں سے الگ ہو گئے ہیں۔ اگر وہ تعلیم اور صنعت کے میدان میں اس طرح داخل ہو جائیں کہ دوبارہ برادرانِ وطن سے ان کا بھر پور اختلاط ہونے لگے تو ہر ہریش مسلمانوں کو طارق دکھائی دے گا اور ہر طارق ہندوؤں کو ہریش نظر آنے لگے گا۔
یہ سارا معاملہ اختلاط اور عدم اختلاط کا ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues