Al-Risala · October 1994 · page 29

اقتباسات

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹

اقتباسات

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لئے صحیح اسلامی مسلک کیا ہے، اس کے بارہ میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ تمام علما کم از کم نظری طور پر یہی کہتے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو حسنِ اخلاق امن و صلح ، صبر و تحمل ، عالی ظرفی اور عدم منافرت کے اصولوں پر کاربندہوناچاہئے۔ اسی میں ان کی دنیا کی بھلائی ہے اور اسی میں ان کی آخرت کی بھلائی بھی ۔ حدیبیہ پرنسپل اسی پالیسی کا ایک علامتی عنوان ہے۔

ذیل میں اس سلسلہ میں چند علما، اور رہنماؤں کے بیانات نقل کئے جاتے ہیں۔ یہ صرف نمونہ کے طور پر ہے۔ ورنہ اس طرح کے بیانات تمام علماء اورمصلحین کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ مولانا سید حسین احمد مدنی ، دیوبند تاریخ بتلاتی ہے کہ ہندمیں ابتداء جب مسلمان آئے ، عام طور سے اہل ہند بودھ مذہب رکھتے تھے۔ اور (مسلمانوں سے) چھوت چھات تو درکنار بیاہ شادی تک بخوشی کرتے تھے، جس طرح آج بھی، برما، سیام، چین، کھاسا پہاڑوں میں رائج ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر پیدا کی۔ خاندان کے خاندان مسلمان ہو گئے۔ مغربی پنجاب، خصوصاً سندھ میں مسلمانوں کی زیادتی کا بڑا راز یہی ہے۔ اس کے بعد جب محمود غزنوی کا زمانہ آتا ہے تو ہندوؤں میں مختلف احوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے اور شنکر اچاریہ عام مذہب ہندو کو بودھ سے نکال کر برہمنی بناتا ہے۔ اور حکومت بودھ کی کمزوری کی بنا پر جو کہ افغانستان، بلوچستان، سندھ، لاہور سے فنا کر دی گئی تھی، اور وسط ہند کے بھی بودھ رجواڑے محمود غزنوی کے پے در پے حملوں سے یکسر کمزور ہو گئے تھے۔ شنکر اچاریہ کو عوام پر بڑی کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ چاروں طرف دبے ہوئے برہمن جن کو بودھوں نے تقریباً دفن کر دیا تھا اُٹھ پڑتے ہیں۔ تھوڑی سی مدت میں پھر برہمنی مذہب اقطارِ ہند میں پھیل جاتا ہے۔ برہمن چونکہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر ان کے اقتدار ہی کو نہیں بلکہ ان کے مذہب کو بھی مٹارہا ہے، جس کی بنا پر ان کی مذہبی اور دنیاوی سیادتوں کا خاتمہ ہو جائے گا، اس لئے انھوں نے عوام میں نفرت کا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page