فرقہ وارانہ نزاعات میں صبر و اعراض
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۹
سمجھتی ہیں اور خود اپنی غفلت و کوتاہی سے چشم پوشی کر لیتی ہیں، مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے کہ وہ اپنی موجودہ زبوں حالی اور بربادی کا ذمہ دار دوسروں کو سمجھتے ہیں، اس لئے ان کے خلاف غصہ اور نفرت میں مبتلا رہتے ہیں اور انھیں اپنی غلطی اور بے تدبیری کا احساس نہیں ہوتا ، اپنے باہمی اختلافات کو رفع کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی کردارکشی ان کا وطیرہ بن گئی ہے، جس سے ان کے اختلاف و نزاع کی خلیج مزید بڑھتی جارہی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہی یونیورسٹی ہے جو ان کا سب سے بڑا قومی سرمایہ ہے، لیکن گزشتہ کئی برس سے اس کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، ان کو درست کرنے کے بجائے ہر فریق دوسرے کی ہوا خیزی، اسے نیچا دکھانے اور اس پر جا و بیجا الزام عائد کرنے میں لگا ہوا ہے اور خود اپنے طرز عمل کا محاسبہ کرنے کے لئے کوئی بھی آمادہ نہیں ہے۔ (ماہنامہ معارف، اعظم گڑھ ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۲-۳)
فرقہ وارانہ نزاعات میں صبر و اعراض
صبر و تحمل کا یہ ذہن اب صرف خواص تک محدود نہیں ہے، وہ مسلم عوام تک بھی پہنچ چکا ہے۔ پچھلے برسوں میں سارے ملک میں سیکڑوں مقامات پر صرف اس لئے فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے کہ مسلمانوں نے اشتعال انگیزی کے باوجود صبر و اعراض سے کام لیا۔ اسی کی ایک مثال سہارن پور (یوپی) کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ الجمعیۃ ویکلی، نئی دہلی (۲۴-۳۰ اپریل ۱۹۹۲) میں چھپی ہے، اس کا عنوان ہے : سہارن پور کے مسلمانوں نے پتھروں کا جواب صبر و ضبط سے دیکر فرقہ پرستوں کے منصوبہ کو خاک میں ملا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سہارن پور کے ہندوؤں نے مارچ ۱۹۹۱ میں رام نومی کا جلوس نکالا تھا۔ جامع مسجد کے پاس پہنچ کر انھوں نے اشتعال انگیز نعرے لگائے۔ مسلمان بھڑک گئے اور اس کے نتیجے میں خونیں فساد پیش آیا۔ اگلے سال ۱۱ اپریل ۱۹۹۲ کو پھر شہر میں رام نومی کا جلوس نکلا۔ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت جامع مسجد پہنچ کر انھوں نے دوبارہ اشتعال انگیزی کی۔ مگر مسلمانوں نے اس بار مکمل اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ چنانچہ ”فسادی پلان" کے باوجود فساد نہیں ہوا اور مسلمان کی جان و مال پوری طرح محفوظ رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues