مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، امیر جماعت اسلامی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸
پر خرچ کی۔ جب کہ یہ رقم دعوتی عمل پر خرچ کی جاسکتی تھی۔ اگر مسلمانوں نے ایسا کیا ہوتا انڈیابالکل مختلف قسم کا ایک ملک ہوتا۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اخلاق اور حسن سلوک کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کریں اور پوری کوشش کے ساتھ دعوتی عمل کریں، کیوں کہ دعوت ہی ان کے مسائل کا واحد حل ہے۔ (ماہنامہ المستقبل الاسلامی، ریاض، ذی الحجہ ۱۴۱۴ھ ،صفحہ۱۱) ماہنامہ معارف۔ اعظم گڑھ آجکل مسلمانوں کا ہر اخبار اور ہر مجلہ مسلمانوں کو صبروتحمل کی تلقین کر رہا ہے۔ ہرایک یہ کہہ رہا ہے کہ مسلمان جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کی پالیسی کو اپنی پالیسی بنائیں۔ یہاں مثال کے طور پر مجلس دار المصنفین اعظم گڑھ کے ماہوار علمی رسالہ "معارف" کے شذرات نقل کئے جا رہے ہیں:
"مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے حکمت، تدبر اور دور اندیشی کے بجائے ان طریقوں کو اختیار کئے ہوئے ہیں جن سے ان کے مسائل اور زیادہ الجھتے اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شور، ہنگامہ اور احتجاج کو انھوں نے اپنی طبیعت ثانیہ بنالیا ہے، اس سے اس ملک میں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں کا خاتمہ نہیں ہو سکتا، ہمیشہ سے کمزوروں اور مجبوروں کو تو تختہ مشق بنانا اور ان پر ظلم و تشدد در دیوار کفناز بردست اور رنجنا شعار لوگوں کا پیشہ رہا ہے، اس کے ازالے کے لئے گلہ، شکوہ اور جزع و فزع کبھی سود مند نہیں رہا ہے، ظلم و تشدد کا سد باب اسی وقت ہوتا ہے، جب مظلوموں اور زیر دستوں میں قوت و طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اپنی کمزوری اور کمی کی تلافی کرکے اپنے حالات کی اصلاح کر لیتے ہیں، لیکن مسلمانوں نے نصف صدی کا طویل عرصہ بے عملی، ،تعطل،نالہ نالہ و شیون اور واویلا میں گزارا ہے۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ دنیا کو آزادی، مساوات اور انصاف عطا کرنے والے آج ذلت، محکومی، نا انصافی اور تفریق و امتیاز کا شکار ہیں، جو ساری دنیا کے لئے چراغ راہ تھے وہ تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں اور انھیں راستہ نہیں مل رہا ہے۔ لوگوں کے مصائب و آلام کو دور کر کے انھیں سہولت و آسانی فراہم کرنے والے خود ایسے دلدل میں جا پھنسے ہیں جن سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔
شکست خوردہ قوموں کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنی ہزیمت اور تباہی کا ذمہ دار دوسروں کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues