Al-Risala · October 1994 · page 41

ام الرسائل اکتوبر ۱۹۶۴ء

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۱

مکتوب حیدر آباد مکرمی و محترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط جس میں آپ نے لکھا تھا کہ بعض حلقوں میں آپ کی شخصیت کو ممممتنازعہ سمجھاجاتاہے بہت روز سے میرے سامنے میز پر رکھا ہے۔ روز سوچتا ہوں کہ اس سلسلہ میں کچھ لکھوں۔ مگر کچھ سمجھ میں نہ آسکا۔ اس لئے کہ آپ نے ہی خود اپنے خط میں مثالوں کے ذریعہ کئے گئے اعتراضات کی معقول وضاحت کردی آپ کے خط کے ہر جملہ سے سوچ وفکر اور خیالات کی پاکیزگی نظر آرہی تھی اس لئے میں نے سوچا کہ میں بھی کچھ اپنے تاثرات کا اظہار کروں۔

آپ کو معلوم ہے کہ شخصیتوں کو تنازعہ قرار دینا دنیا کا بہت ہی پرانا دستور ہے۔ ہر وہ شخصیت جس کے نظریات عوام کی سمجھ سے باہر ہوں ہمیشہ تنازعہ بنی رہتی ہے اور جب ان نظریات کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے تو یہی عوام ان کو ہیرو بنا کر پرستار ہو جاتے ہیں۔ ابن رشد کے نظریات نے اس کی شخصیت کو متنازعہ بنادیاتھا۔ اس ۔ اس کو اپنی جان بچانے کے لئے مراکش میں در بدر مارا مارا پھرنا پڑتا تھا۔ مگر آج اس کو موجودہ سائنس کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ کیپلر، کوپرنکس اور گلیلیو عیسائی دنیا کی تنازعہ شخصیتیں تھیں۔ اس لئے کہ ان کے فلکیاتی نظریات بائبل کے خلاف تھے مگر آج ان کے نظریات کو تسلیم کرنا پڑا۔ الکندی کے نظریات کو مذہب اسلام کے خلاف سمجھا جانے لگا۔ مگر آج اس کو کیمسٹری کا استاد مانا جاتا ہے۔ زمانہ وسطیٰ میں بہت سے حکماء و فلاسفہ اپنے ہم عصر لوگوں کے اعتراضات سے بچنے کے لئے، تاکہ ان کی شخصیتیں تنازعہ نہ بن جائیں، اپنی تحقیقات و نظریات کو ارسطو سے وابستہ کرتے رہے. جس کے نتیجہ میں ارسطو کو غیر معمولی شہرت مل گئی اور اس کو معلم اول قرار دیا گیا۔ جب سر سید احمد خاں کو ” ’’انگریزوں کا پٹھو“ کہا گیا تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی. مگر وہ استقلال سے اپنے مشن کو چلاتے رہے۔ قوم انگریزی پڑھنے لگی اور علمی دوڑ میں دوسرے کے ساتھ سر اٹھائے چل رہی ہے۔ ایسے ہی الزامات جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں لکھا ہے بہت سے لوگوں پر لگائے گئے مگر وہ اپنے مشن کو پورا کرتے رہے۔ یہ الزام لگانے والے خود تو کچھ نہیں کر سکتے مگر دوسروں کو کرنے بھی نہیں دیتے بلکہ راستہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔

ام الرسائل اکتوبر ۱۹۶۴ء

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page