Al-Risala · October 1994 · page 42

ام الرسائل اکتوبر ۱۹۶۴ء

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۲

آپ کا نظریہ ہندو مسلم اتحاد کا نہ صرف وقت کا تقاضا ہے بلکہ بے انتہا ضروری ہے۔ ہم جہاں رہتے ہیں ہم کو ہر قدم پر غیر مسلم اصحاب سے سابقہ پڑتا ہے ان سے مل جل کر رہنے میں نہ صرف ہماری بلکہ ساری قوم کی بھلائی ہے۔ تاریخ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ قوموں کا اتحاد ملک و قوم کے عروج کا سبب بنا۔ اور اب بھی اس اتحادی نظریہ کو اپنا کر دنیا کی مختلف قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ میرا جہاں تک خیال ہے کہ دو طرفہ بنیادوں پر یک جہتی کی مثالیں بہت کم ہیں۔ یہ مسئلہ ہمیشہ دو لیڈروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے جہاں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ یہ طریقہ بہت کم کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ مگر یک طرفہ طریقہ ہمیشہ کامیاب ہوا۔ اس میں ٹکرائو اور برتری کی پالیسی نہیں ہوتی۔ سنجیدگی، محبت اور خلوص کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کی تاریخ اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ انھوں نے اسی یک طرفہ طریقہ کو اپنایا تھا اور اسی طریقہ سے نہ صرف اپنی قوم بلکہ غیر اقوام کا بھی دل جیت لیا۔ ان سے ملنے والوں میں مسلم اور غیر مسلم دونوں کا مجموعہ رہتا تھا۔ لوگ ان کو نہ صرف زندگی ہی میں چاہنے لگے تھے بلکہ آج صدیوں بعد بھی ان کے مزاروں پر ہند و مسلم عوام اکٹھے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ ان بزرگوں کے مریدوں نے کرامات پر اتنا زور دیا کہ ان کی اصلی تعلیم کو ہی نظر انداز کر دیا۔ آپ کے یکطرفہ طریقہ کے مشورہ کو اپنا لیا جائے تو بہت سے اختلافات دور ہو سکتے ہیں۔ قو میں مل جل کر ترقی کر سکتی ہیں اور ملک کی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ورنہ آپسی جھگڑے ملک کو کمزور کرتے ہیں بلکہ بہت کچھ کر چکے ہیں۔

یک طرفہ طریقہ کی کامیابی کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ اخلاقی قوت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر مسلمان قرآن اور حدیث کی روشنی میں اپنے اخلاق کو درست کر لیں تو کوئی جھگڑا ہی نہ کھڑا ہو گا۔ قرآنی اخلاق انسان کو انسان بناتے ہیں۔ سیاسی اخلاق انسان کو فساد کے میدان میں اتارتے ہیں۔ اگر ہم قرآنی اخلاق پر عمل پیرا ہو جائیں تو کوئی بھی ہماری طرف انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ یہ تاثر سب کے دماغ میں آجائے گا کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتے۔ چوری نہیں کرتے۔ ۔ فتنہ پر ورنہیں ہوتے، دیانت دار، امانت دار اور انصاف پسند ہوتے ہیں۔ اگر محلہ میں کہیں چوری ہو جائے اور اس کا الزام کسی مسلمان پر آجائے تو پولیس یہ کہے بنا رہے کہ مسلمان سے یہ غلطی نہیں ہو سکتی۔ دفتروں میں یہ تاثر بن جائے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page