Al-Risala · October 1994 · page 50

خبر نامه اسلامی مرکز ۹۹

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۵۰

وہ الہانہ وابستگی اور شفقت ومحبت ہو جب کہیں جاکر مدعو کے دل میں داعی جگہ بناتا ہے۔ عصر حاضر کا مزاج جدال اور مناظرہ کا متحمل نہیں ہے۔

انگریزی اخبار پائیر کے نمائندہ مسٹر اعجاز اشرف نے ۷ جون ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ کیا اسلام میں زمانہ کے لحاظ سے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اس نقطہ نظر کی سختی کے ساتھ تردید کی گئی اور دلیل سے بتایا گیا کہ اسلام ایک ابدی صداقت ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔ ۱۱۔ اکنامک ٹائمس کے نمائندہ مسٹر بابر زیدی نے ۹ جون ۱۹۹۴ء کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ مسلمانوں کو سائنسی تعلیم کے میدان میں کس طرح لایا جائے ۔ بتایا گیا کہ یہ کام فتوی کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔

سنتوش کمار پانڈے اور مسٹر محمد یتیم کمال نے ۱۰ جون ۱۹۹۴ء کو آل انڈیا ریڈیو کے لئے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس بات سے تھا کہ تسلیمہ نسرین جیسے واقعات کیا یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں ریفارم کی ضرورت ہے۔ بتایا گیا کہ ریفارم کی ضرورت مسلمانوں میں ہے نہ کہ اسلام میں۔

ایشین ایج کی نمائندہ مسزشیلاریڈی نے ۱۳ جون ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا ٹیلی فون پر انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس بات سے تھا کہ ہندوستان میں مسجدوں اور مدرسوں کا نظام کیا ہے اور کس طرح اسے چلایاجاتاہے ۱۴۔

ہندی روزنامہ جن ستاکے نمائندہ مسٹر اسرا ر احمد نے ۱۳ جون ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو رنے اسلام سے متعلق بہت سے سوالات کئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا اسلام میں سدھار کی ضرورت ہے۔ جواب دیا گیا کہ اسلام میں سدھار کا کوئی سوال نہیں۔ البتہ مسلمانوں میں بہت سے بگاڑ آگئے ہیں اور ان میں ضرور سدھار کی ضرورت ہے۔ الرسالہ کا ایک خصوصی نمبر زیر تیاری ہے۔ یہ اسلام کی اخلاقی اور انسانی تعلیمات پر مشتمل ہوگا۔ اس کا نام اخلاقیات ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page