خبر نامه اسلامی مرکز ۹۹
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۹
سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے یکم مئی کے اجلاسی میں یہ صحیح فیصلہ کیا ہے کہ جسٹس تلہری کے معاملہ پر ایجی ٹیشن کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ مگر اس کے ساتھ انہیں یہ اعلان بھی کرنا چاہئے کہ اس سے پہلے شاہ بانو بیگم اور بابری مسجد وغیرہ مسائل پر عوامی احتجاج کا جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ غلط تھا۔ عوام کو رہنمائی دینے کے لئے یہ اعتراف بھی ضروری ہے۔
آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی نیشنل چینل سے ۳۱ مئی ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا : اسلامی تعلیمات کا انسانی پہلو۔ اس تقریر میں خاص طور پر ان العباد کلھم اخوة کی تشریح کی گئی۔
دور درشن کی ٹیم نیوز واچ (Newswatch) نے ۲۲ مئی ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر دہلی کے سلائر ہاؤس کے مسئلے سے تھا، بتایا گیا کہ اس معاملہ میں متوازن فیصلہ لیا جانا چاہئے۔ کیوں کہ سلائر ہاؤس کا تعلق اگر ماحولیات کے مسئلے سے ہے تو دوسری طرف گوشت اور دوسری متعلق چیزوں کے ایکسپورٹ سے قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ کسی ایک فرقہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے یہ اسٹرا ئک ۲۳ مارچ ۱۹۹۴ کو شروع ہوئی اور ۱۴ جون ۹۴ کو ختم ہوگئی، راشٹریہ آریہ مہاسمیلن ۲۸۔ ۲۹ مئی ۱۹۹۴ کو نئی دہلی دکتال کٹورہ اسٹیڈیم میں ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۲۸ مئی کے اجلاس میں شرکت کی اور ذات پات اور علاحدگی پسندی کے مسئلہ پر اصلاحی نقطہ نظر پیش کیا۔
دہلی (ایوان غالب) میں ۵ جون ۱۹۹۴ کو کل ہند علماء اہل حدیث کانفرنس منعقد ہوئی اس کا موضوع حالات حاضرہ تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔ یہ بات نوٹ کی گئی کہ جمعیۃ اہل حدیث سمیت تمام مسلم تنظیمیں اب اسی نہج پر آرہی ہیں جس کی طرف دعوت الرسالہ میں ۱۹۷۶ میں شروع کی گئی تھی۔ چنانچہ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ نے اپنے مطبوعہ خیرمقدمی کلمات میں مروجہ مناظرہ کاطریقہ چھوڑنے کی تلقین کی ۔ انھوں نے کہا : داعی اپنے مدعو کا ہمدرد اور سچا ہی خواہ ہو۔ ان سے اسے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues