ایمان میں نقصان
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴
ایمان میں نقصان
الذین اٰمَنُوْاوَلَمْ یَلْبِسُوْا ایمانهم جو لوگ ایمان لے آئے اور انھوں نے اپنے بظلم اولئک لھم الامن وھم مهتدون ایمان میں کوئی نقصان نہیں ملایاانھیں کے لیے امن ہے اور وہی لوگ ہدایت پائے ہوئے ہیں۔
قرآن کی اس آیت میں ظلم سے مراد نقصان ہے ۔ لغت عرب میں ظلم کا یہ مفہوم آتا ہے (لسان العرب) اور خود قرآن میں اس کا استعمال موجود ہے ۔ سورہ الکہف میں دو باغ کا ذکر ہے۔ اس سلسلہ میں فرمایا کہ دونوں باغ خوب سرسبز وشاداب تھے ۔ دونوں اپنا پھل لائے اور اس میں کچھ نہیں گھٹایا (الکهف ۳۳)
اس دنیا میں ہر فائدہ والی چیز کے ساتھ نقصان کا پہلو لگا ہوا ہے۔ مثلاً تجارت ایک مفید چیز ہے۔ لیکن ایک تاجر اگر ایسا کرے کہ وہ تجارت کرنے کے ساتھ بری عادتوں میں بھی اپنے کو پھنسا لے ۔ وہ اپنی پوری بکری کو اپنا نفع سمجھ لے ۔ وہ اپنے گاہکوں کے ساتھ دادا گیری کرنے لگے۔ وہ اپنے اصحاب معاملہ سے وعدہ خلافی اور بد دیانتی کا سلوک کرے ۔ جو تاجر ایسا کرے وہ بہت جلد دیوالیہ ہو جائے گا، ایسا تاجر کبھی کامیاب تاجر نہیں بن سکتا۔
یہی معاملہ ایمان کا ہے۔ ایمان بے حد قیمتی چیز ہے۔ مگر ایمان کو اس کے نقصانات سے بچانا ہے۔ جو آدمی اپنے ایمان کو اس کے نقصانات سے نہ بچائے اس کا ایمان اس کو نفع پہنچانے والا نہیں۔ ایمان کا نقصان یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق آئے مگر وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ اس سے گناہ سرزد ہو مگر وہ توبہ نہ کرے۔ وہ اپنی توحید میں شرک کی ملاوٹ کر دے۔ اس کو امانت سونپی جائے تو وہ اس میں خیانت کرنے لگے۔ ایک عمل خیر اس کی استطاعت میں ہو مگر وہ اس کو انجام نہ دے۔ خدا کے دین کو وہ اپنے لیے سامان تجارت بنالے ۔ وہ ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرے جس کو اس نے انجام نہیں دیا۔ اس قسم کی تمام چیزیں ایمان میں نقص پیدا کرنے والی ہیں ، اور جس ایمان میں نقص شامل ہو جائے وہ ایمان خدا کے یہاں قابلِ قبول نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues