Al-Risala · November 1994 · page 5

منافق کی پہچان

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۵

منافق کی پہچان

صحیح بخاری اور صحیح مسلم (کتاب الایمان) میں منافقت کی پہچان کے بارے میں کچھ روایتیں آئی ہیں ۔ معمولی لفظی فرق کے ساتھ وہ روایت یہ ہے :

اربَعٌ مَن كُنَّ فِيهِ كانَ مُنافقاً خالصاً۔ چار خصلتیں جس میں ہوں وہ پورا منافق ہے جب إذا اؤتُمِنَ خَانَ ۔ وَ إذا حَدَّثَ كَذَبَ۔ وہ امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ جب وہ بات و إذا عاهَدَ غَدَرَ وَ إذا خاصَمَ کرے تو جھوٹ بولے۔ اور جب وہ وعدہ کرے فَجَرَ۔ وَ إِن صامَ وصلّى و زعم تو اس سے پھر جائے اور جب وہ بحث کرے تو أنَّه مسلم ۔

انصاف سے ہٹ جائے۔ خواہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔

اجتماعی زندگی میں ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان جو باہمی معاملات پیش آتے ہیں ان کی مختلف صورتیں ہیں۔ تاہم بڑی تقسیم میں وہ چار ہیں۔ آدمی کی اندرونی شخصیت کیسی ہے، اس کا اظہار ان پہلوؤں میں ہوتا رہتا ہے۔ ایک قسم کا اظہار آدمی کے مخلص ہونے کی پہچان ہے اور دوسرے قسم کا اظہار آدمی کے منافق ہونے کی پہچان ۔

مال اورجائدادکے سلسلہ میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کی چیز دوسرے انسان کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ اب جو آدمی دوسرے کی چیز کو حق دار کے حوالے نہ کرے بلکہ اس پر خود قبضہ کرنے لگے وہ ایسا کر کے اپنے آپ کو منافق ثابت کر رہا ہے۔

یہی معاملہ قول کا ہے۔ ایک آدمی اگر اپنے قول میں محتاط نہ ہو، وہ بات کرے تو اس میں جھوٹ ملا دے تو ایسا آدمی اللہ کے نزدیک منافقین میں شامل ہے۔ اسی طرح ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان بسا اوقات معاہدہ کی صورت پیش آتی ہے۔ اب جو شخص معاہدہ تو کرلے مگر معاہدہ پورا کرنے کا وقت آئے تو اس کو پورا نہ کرے تو وہ حقیقت کے اعتبار سے منافق ہے۔

مومن با اصول انسان کا نام ہے اور منافق بے اصول انسان کا نام۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page