Al-Risala · November 1994 · page 7

انسانی فطرت

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۷

انسانی فطرت

ابوالبرکات صاحب (نظام پور، اعظم گڑھ) سے ۳ دسمبر ۱۹۹۱ء کو دہلی میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں انھوں نے مندرجہ ذیل واقعہ بتایا۔

ضلع اعظم گڑھ میں ماہل کے قریب ہندوؤں کا ایک گاؤں ہے۔ اس کا نام ٹکريا (Tikurya) ہے۔ پڑوس کے گاؤں رسول پور سے ایک یادو چوری کی غرض سے یہاں پہنچا۔ رات کا وقت تھا۔ ایک گھر کے پاس پہنچ کر اس نے اس کی کنڈی کھٹکھٹائی۔ یہ بھی ایک یادو کا گھر تھا۔ اس نے اپنی بھانجی کی اپنے یہاں پرورش کی تھی، اس وقت صرف بھانجی گھر میں تھی۔ اس کا ماما (ماموں) کسی ضرورت سے باہر چلا گیا تھا۔

کنڈی کھٹکھٹانے کی آواز سن کر لڑکی دروازہ پر آئی۔ اس نے سمجھا کہ اس کا ماما واپس آیا ہے۔ تصدیق کے لیے اس نے اندر سے کہا ” ماما! “ باہر کے آدمی نے یہ سن کر کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد لڑکی نے دروازہ کھول دیا۔ مگر جب دروازہ کھلا تو سامنے کوئی شخص دکھائی نہیں دیا۔ آخر کار وہ دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔

کچھ دیر کے بعد دوبارہ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ لڑکی دوبارہ دروازہ پر آئی اور تصدیق کے لیے پھر کہا کہ ماما! ۔ باہر سے آواز آئی کہ ہاں ۔ اب لڑکی نے دوبارہ دروازہ کھول دیا۔ معلوم ہوا کہ اس کا ماما واپس آیا ہے۔ ابھی دونوں دروازہ ہی پر تھے کہ لڑکی نے کہا کہ اس سے پہلے آپ دروازہ کھلواکر کہاں چلے گئے تھے۔ ماما نے کہا کہ میں تو اس سے پہلے نہیں آیا۔ لڑکی نے کہا کہ پھر کون تھا جس نے اس سے پہلے کنڈی کھٹکھٹائی۔

یہ بات ہورہی تھی کہ ایک طرف سے آواز آئی کہ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ ماما نے پوچھا کہ تم کون ہو ۔ اس نے کہا کہ میں چور ہوں۔ ماما نے دوبارہ کہا کہ جب تم چور ہو تو دروازہ کھلنے کے بعد اندر گھس کر اپنا کام کیوں نہیں کیا۔ چور نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ جب لڑکی نے اندر سے پوچھا کہ ماما۔ تو میں نے کہہ دیا کہ ہاں ۔ یہ کہہ کر میں نے اپنے آپ کو لڑکی کا ماما بنا دیا۔ اور ماما کبھی کسی بھانجی کے گھر میں چوری نہیں کر سکتا۔

رسالہ نومبر ۱۹۹۳ء

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page