خاموش جواب
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳
خاموش جواب
ڈاکٹر حسن الدین احمد صاحب (حیدر آباد) اپنے خط مورخہ ۷ دسمبر ۱۹۹۳ میں لکھتے ہیں: قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ النساء کی آیت ۱۴۰ اورسورہ الانعام کی آیت ۶۸ نے اپنی جانب متوجہ کیا۔ دونوں میں تقریباً یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات کے متعلق بے ہودہ باتیں کرتے ہیں تو تم ان سے منہ پھیر لو۔ یہاں تک کہ وہ ان باتوں کے سوا دوسری باتوں پر غور و خوض شروع کر دیں۔
ان آیات میں تو بظاہر مسلمانوں کو ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن سورہ الانعام کی آیت ۶۸ میں فاعرض عنھم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفین کے منہ کو نہ لگیں کہ اس سے بات بڑھ کر رائی سے پہاڑ بن سکتی ہے۔
ان آیات میں آج کی ”سیاست ملی“ کے لیے کھلا حکم موجود ہے ـــــ مخالف کو ”چپ کرنے“ سے وہ چپ نہیں ہوتا۔ بلکہ ”چپ رہنے“ سے اسے مجبوراً چپ ہونا پڑتا ہے۔ مولا ناحالی نے اسی بات کو اپنے ذاتی تجربہ کی روشنی میں اس طرح بیان کیا : کیا پوچھتے ہو کیوںکر سب نکتہ چیں ہوئے چپ سب کچھ کہا انھوں نے پر ہم نے دم نہ مارا“ یہ نہایت صحیح بات ہے۔ عقل اور نقل دونوں کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ غیر سنجیدہ باتیں کریں، جھوٹے الزام لگائیں۔ طنز ، تعریض، تنقیص پر اتر آئیں ، ایسے لوگوں کا جواب صرف اعراض ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا بہترین جواب یہ ہے کہ ان کا کوئی جواب نہ دیا جائے ۔
اعراض کوئی منفعل روش نہیں۔ وہ فریق ثانی کا خاموش جواب ہے ۔ اور تجربہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات خاموش جواب بولنے سے زیادہ کارگر ثابت ہوتا ہے ۔
اعراض کی پالیسی بے عملی کی پالیسی نہیں ، وہ پورے معنوں میں ایک عمل ہے۔ بلکہ اکثر اوقات زیادہ نتیجہ خیز عمل ۔ اگر آپ مخالف کی بات کا جواب دیں تو وہ دوبارہ اس کا جواب دے گا۔ اس طرح نزاع باقی رہے گی ۔ مگر جب اس کی بات کو نظر انداز کر دیا جائے تو وہ مجبور ہو کر کسی اور کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اس طرح نزاع اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues