خاموشی
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۲
خاموشی
ارنسٹ سیا چری (Ernest Psiachari) ایک فرانسیسی رائٹر ہے۔ وہ ۱۸۸۳ء میں پیرس میں پیدا ہوا ۔ ۱۹۱۴ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ابتداً آزاد خیال اور ملحد تھا۔ مگر بعد کو وہ مسیحی عقیدہ کی طرف لوٹ آیا اور خدا اور مذہب کو ماننے والا بن گیا ۔ ارنسٹ سیاچری مشہور مورخ ارنسٹ ریناں کا پوتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سمجھا جاتا ہے جنہوں نے ۱۹۱۴ء سے پہلے فرانس میں روحانی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ایک قول کا ترجمہ انگریزی زبان میں اس طرح کیا گیا ہے ــــ خاموشی آسمان کا ایک ٹکڑا ہے جو زمین پر اتاراگیاہے: :
Silence is a bit of heaven that comes down to earth. خاموشی فطرت کی زبان ہے۔ ایک آدمی جب خاموش ہوتا ہے تو وہ عالم فطرت کا ہم زبان بن جاتا ہے۔ اس کی سطح وہ ہو جاتی ہے جو فطرت کی سطح ہے۔ اور فطرت کی سطح سے بلند سطح اور کوئی نہیں۔
انسان مطلق معنوں میں خاموش نہیں رہ سکتا۔ انسان جب بظاہر خاموش ہوتا ہے تو اس وقت وہ دوسروں کے لیے خاموش ہوتا ہے مگر اپنے لیے خاموش نہیں ہوتا۔ وہ خارجی دنیا کی طرف سے خاموش ہو کر اپنی داخلی دنیا سے ہم کلام ہو جاتا ہے۔ چپ رہنا ایک عظیم عمل ہے۔ جب آدمی چپ رہتا ہے تو وہ زمین" کی باتوں سے زیادہ آسمان" کی باتوں پر دھیان دے رہا ہوتا ہے۔ وہ انسان سے زیادہ فرشتوں کی سرگوشیوں پرکان لگائے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ خود اپنی بات کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ وہ سطحی اور ظاہری باتوں سے زیادہ گہری حقیقتوں کی دریافت میں مشغول ہوتا ہے۔
آدمی جب بولتا ہے تو وہ محدود دنیا میں ہوتا ہے، آدمی جب چپ رہتا ہے تو وہ لامحدود دنیا کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues