ایرانی انقلاب
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۵
ایرانی انقلاب
جون ۱۹۹۲ کے آغاز میں ایران کے صدر ہاشمی رفسنجانی نے اپنے دفتر میں ایرانی مہاجرین کی ایک جماعت سے ملاقات کی۔ وہ لوگ ترک وطن کے کئی سال بعد اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی دعوت پر ایران آئے تھے۔ زائرین میں سے ایک صاحب جو کہ ایٹمی تحقیق کے میدان میں بین اقوامی ماہر سمجھے جاتے ہیں، ان سے رفسنجانی نے پوچھا کہ اپنے سابق وطن ایران کے بارہ میں آپ کے تاثرات کیا ہیں۔ صدر کے سوال کے جواب میں ایرانی مہاجر نے جو الفاظ کہے وہ آج کل ایران میں لوگوں کے درمیان بہت گردش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: میں نے ملک میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں دیکھی، سوا اس کے کہ شاہ اب عمامہ پہنتا ہے اور اس کے آدمیوں نے بھی اپنے لباس بدل لیے ہیں۔ نائٹ کلب سڑکوں سے منتقل ہو کر گھروں کے اندر چلے گئے ہیں، اور نفاق ایک معمول کی چیز بن گیا ہے۔ بلکہ جو شخص جتنا زیادہ مصنوعی دین داری دکھاتا ہے وہ اتنا ہی بڑا منصب حاصل کرتا ہے۔ حاضرین مجلس کے تعجب اور اضطراب کے درمیان صدر رفسنجانی نے مذکورہ شخص سے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں : فی بداية الشهر الماضي استقبل الرئيس الايراني هاشمي رفسنجاني في مكتبه مجموعة من المغتربين الايرانيين ممن كانوا يزورون ايران بعد سنوات عديدة من الغربة بدعوة من وزارة التعليم العالي. سأل رفسنجاني احد زواره الذي يعتبر خبيرا دوليا في مجال البحوث الذرية، عن انطباعاته خلال زيارته للوطن. وجاء رد المغترب الايراني على سؤال الرئيس في عبارة تردد حاليا في ايران بين الناس، فقال: لم اشاهد تغيرا اساسيا في البلاد سوى ان الشاه يلبس العمامة ورجاله بدلوا ألبستهم، والنوادي الليلية انتقلت من الشوارع الى داخل البيوت، والنفاق اصبح أمراً عادياً، بل ان من يتظاهر بالتدين اكثر فانه يحصل على منصب أعلى. ووسط استغراب وربما قلق بعض الذين حضروا الاجتماع قال الرئيس لزائره انه على الحق. یہی ہر اس سیاسی انقلاب کی بات ہے جو موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر لایا جا رہا ہے۔ اسلامی انقلاب ہمیشہ دعوت اور کردار سازی اور صابرانہ جد و جہد اور تدریج کے اصول پر برپا ہوتا ہے۔ جب بھی سیاسی ہنگامہ آرائی یا گن کلچر کے ذریعہ انقلاب لانے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا انجام ایران جیسا ہوگا، خواہ اس کا نام اسلامی انقلاب یا آسمانی انقلاب کیوں نہ رکھ دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues