Al-Risala · November 1994 · page 16

سطحی اعتراض

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶

سطحی اعتراض

ایک ہندو بھائی ہیں۔ وہ الرسالہ (اردو) کو ہر مہینہ پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ الرسالہ کے بارہ میں آپ کا تاثر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اور تو سب اچھا ہے۔ اس میں بہت سی اخلاق اور مذہب کی باتیں ہوتی ہیں۔ مگر ایک بات مجھے کھٹکتی ہے۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فساد کے معاملہ میں الرسالہ ہمیشہ ہندوؤں ہی کو برا کہتا ہے۔

پوچھنے والے نے پوچھا کہ یہ تو آپ الٹی بات کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ الرسالہ میں تو کبھی ہندوؤں کے خلاف کچھ نہیں چھپتا۔ اس میں تو ہمیشہ مسلمانوں کو صبر کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ہندو بھائی نے جواب دیا: یہی تو ہندوؤں کو برا بتانا ہے۔ کیوں کہ صبر کسی ظلم کے خلاف ہوتا ہے۔ جب الرسالہ مسلمانوں سے صبر کرنے کے لیے کہتا ہے تو یہ بات اس میں اپنے آپ شامل ہے کہ ہندو ان کے اوپر ظلم کر رہا ہے۔ اگر کوئی مسلمانوں کے اوپر ظلم نہ کر رہا ہو تو صبر کی بات کہاں سے آئے گی۔ میں نے اس واقعہ کو سنا تو میں نے کہا کہ ہمارے مخالف مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندو زیادہ گہرائی کے ساتھ الرسالہ کو پڑھتا ہے۔ مسلمانوں میں جو لوگ الرسالہ کے مخالف ہیں، ان کا خاص اعتراض یہ ہے کہ الرسالہ میں ہمیشہ مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے اور ان سے صبر کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ہندوؤں کے خلاف الرسالہ میں کچھ نہیں ہوتا۔

حالاں کہ مسلمانوں سے صبر کرنے کے لیے کہنا بذات خود یہ معنی رکھتا ہے کہ دوسرا فریق ان کے اوپر ظلم کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا کہ صبر کرو (الاعراف ۱۲۸) تو اس میں یہ بات لازمی طور پر شامل تھی کہ فرعون یا اس کی قوم تمہارے اوپر ظلم کر رہی ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں تمہیں جوابی تشدد نہیں کرنا ہے۔ بلکہ صبر کرتے ہوئے اللہ کی مدد کا انتظار کرنا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کی مخالفت کرنے والے کتنے سطحی لوگ ہیں۔ انھیں گہری حقیقتوں کی خبر نہیں۔ ان کے اعتراضات کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اپنی سطحیت کو الرسالہ کے اوپر انڈیل رہے ہیں۔

کتنے جاننے والے ایسے ہیں جنھوں نے اب تک کچھ نہیں جانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page