Al-Risala · November 1994 · page 27

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۷

وہ ایسا نہ کرتے کہ سیاست کی قربان گاہ پر قوم کو لے جاکر اس کی ہلاکت کا سامان کریں۔ بلکہ وہ لوگوں کو یہ سبق دیتے کہ جدید امکانات کو استعمال کر کے دعوہ ایمپائر بناؤ اور پھر اسلام کو سارے عالم کی فکری قیادت کے مقام پر پہنچادو۔

یہ دعوہ ایمپائر اصلاً غیر سیاسی دائرہ میں بنے گا۔ مگر جب وہ بن جائے گا تو وہ بالواسطہ طور پر سیاسی ادارہ کو بھی متاثر کرے گا، حتیٰ کہ عین ممکن ہے کہ وہ وقت آئے جب کہ خود سیاسی ادارہ بھی اس دعوہ ایمپائر کا ایک ماتحت حصہ بن جائے۔ خلاصہ کلام جزئی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ بروقت جو صورتحال (الوضع الراهن) سامنے ہے اس کے سلسلہ میں حکم شرعی کو معلوم کر کے اس پر عمل کیا جائے ۔ کلی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ بروقت قائم شدہ صورتحال کے بارے میں وہ موقف اختیار کیا جائے جس میں شریعت کی اصل روح کے ساتھ عمومی مصلحت کی رعایت ہو، اور جو بالاخر موجودہ صورتحال کے وقتی حل سے آگے بڑھ کر اسلام کے وسیع تر مقصد تک پہنچانے والا ثابت ہو۔ گو یا مصلحت وقتی کوملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کا رخ متعین کرنے کا نام جزئی اجتہاد ہے اور مصلحت عمومی کو ملحوظ رکھ کر عمل کا رخ متعین کرنے کا نام کلی اجتہاد۔

Woman Between Islam and Western Society By Maulana Wahiduddin Khan The status of woman in Islam is the same as that of man. Injunctions about honour and respect enjoined for one sex are enjoined equally for the other sex. So far as rights in this world and rewards in the Hereafter are concerned, there is no difference between the sexes. In the organization of daily living, both are equal participants and partners. Yet Islam sees man as man and woman as woman and, considering the natural differences, it advocates the principle of the division of labour between the two sexes rather than the equality of labour. Pages: 254; Rs. 85.00

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page