سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۶
اسلام کا اصل مقصد دل کی دنیا کو بدلنا ہے نہ کہ ظاہری ڈھانچہ کو بدلنا۔ اسلام کااصل مقصد اظہار ہے، اسلام کا اصل مقصد اقتدار نہیں۔ اسلام کانشانہ نظریاتی غلبہ ہے نہ کہ محض سیاسی غلبہ۔ اسلام کا اصل مقصد و جنت ہے، اسلام کا اصل مقصد حکومت نہیں۔ قدیم زمانہ میں سیاست کا ادارہ ہی واحد طاقت ور ادارہ تھا۔ اس لئے اسلام کے غیر سیاسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بھی سیاست سے تعرض پیش آیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔ اب اگر کسی مقام پر اہل اسلام کو حکومتی ادارہ میں غلبہ حاصل نہیں ہے تو اس پر انہیں کچھ بھی ملال کرنے کی ضرورت نہیں۔ جدید ذرائع کو استعمال کر کے وہ حکومت کے باہر بھی وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں جن کی توقع پہلے صرف حکومتی ادارہ سے کی جاتی تھی۔
موجودہ زمانہ کے مسلم مصنفین کا یہ حال ہواکہ وہ قدیم امکانات کو جانتے تھے، مگر جدید امکانات سے عملاً وہ بے خبر رہے۔ اسی لئے اس راز کو سمجھنا ان کے لئے ممکن نہیں ہواکہ حکومت سے باہر وہ حکومت سے بھی زیادہ طاقت ور ادارہ بنا سکتے ہیں۔
موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ افکار کی اشاعت عالمی سطح پر بے روک ٹوک اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جاری کی جاسکے۔ ایسی اسلامی یونیورسٹی بنائی جائے جو تمام دنیا کے لئے علوم الہی کا سر چشمہ بن جائے۔ ایسا ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی اسٹیشن قائم کیا جائے جہاں سے بیک وقت تمام اہل عالم کو خطاب کیا جا سکتا ہو۔ ایسا اقتصادی ہاؤس بنایا جائے کہ حکومتوں کے تعاون سے بے پروا ہو کر تمام اسلامی سرگرمیوں کو خود اپنی بنیاد پر جاری کیاجاسکے۔ اسی کے ساتھ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ اسلامی اخلاقیات کا عمومی مظاہرہ کیا جاسکے۔ جدید طرز کے اسپتال، جدید طرزکے رفاہی ادارے، معذور افراد کے لئے جدید معیار کی سہولتیں، اور اس قسم کے دوسرے بہت سے کام حکومت کے اشتراک و تعاون کے بغیر اعلیٰ ترین سطح پر کئے جاسکتے تھے، جیسا کہ بعض قو میں انجام دے رہی ہیں۔ اسی قسم کے مختلف کاموں کے مجموعہ کو ہم نے دعوہ ایمپائر کہا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مصنفین اگر کلی اجتہاد کی صلاحیت کے حامل ہوتے تو وہ ان امکانات و مواقع کو دیکھتے۔ اس کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues