Al-Risala · November 1994 · page 31

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱

ہم کیوں اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور جائیں۔

اس واقعہ کو سن کر میں نے کہا کہ آج ہمارے مسلم دانشوروں کا حال یہ ہے کہ وہ کہانی کے حصہ اول کو لے کر کہنے لگتے ہیں کہ مغربی لوگ اسلام دشمن ہیں۔ وہ اسلام کے فروغ کو برداشت کرنے کے لئے تیارنہیں ۔ حالاں کہ عین اسی وقت کہانی کا نصف ثانی ان کے لئے زبردست مثبت سبق کے طور پر موجود ہوتا ہے۔

آئی پی سی میں جناب عبدالمجید صوفی (بریڈ فورڈ) سے ملاقات ہوئی۔ وہ قدیم کتا بیں جمع کرنے کے شوقین ہیں۔ انھوں نے ایک کتاب دکھائی:

Thomas Carlyle, lectures on Heroes, Chapman and Hall, London 1888 اس کتاب کا ایک لکچرہیروپیغمبر(The (The Hero As Prophet) ہے۔ یہ لکچر لندن میں ۴۱۸۸ کو دیا گیا تھا۔ اس میں پیغمبر اسلام کو تمام پیغمبروں کا" ہیرو" بتایا گیا ہے۔ عبدالمجید صوفی کے پاس اس کتاب کا ۱۸۸۸ کا نسخہ ہے۔ انھوں نے یہ کتاب مجھے دکھاتے ہوئے کہا کہ "یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ ساری دنیا ان کے قدموں میں تھی، جب یہ لوگ انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے تھے۔ اس وقت کارلائل نے رسول اللہ کو پیغمبروں کا ہیرو بتایا۔ میں نے کہاکہ ’’۱۸۴۰‘‘میں میں اتنا بڑا واقعہ لندن میں ہوا۔ مگر اس وقت کے مسلم لیڈروں میں سے کوئی نہیں جو اس کو جانے اور اس سے مسلمانوں کو آگاہ کرے۔ ہمارے رہنما انگریز کے نام سے صرف "ڈائر" سے واقف تھے، وہ انگریز کے نام سے کارلائل سے واقف نہ ہو سکے۔ برمنگھم کے البیرہ اسکول کے ہال میں ۲۴ستمبرکوایک تقریرتھی اس میں تعلیم یافتہ حضرات جمع ہوئے۔ تقریر کا موضوع تھا : اسلام اور عصرِ حاضر ۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر میں موضوع کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا گیا۔ آخر میں سوال وجواب ہوا۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر مجلسیں ہوئیں ان میں الـسالمشن اور دوسرے ملی موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ اس طرح ۲۴ ستمبر کا تقریبا پورا دن لوگوں سے بات چیت میں گزر گیا۔

ایک اجتماع میں قاری صاحب نے قرآن کی وہ آیتیں تلاوت کیں جن میں لا ترفعوا اصواتكم

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page