سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲
فوق صوت النبی (الحجرات ۲)ہے ہے۔ میں نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قاری صاحب نے جو آیت پڑھی، اس میں موجودہ زمانہ کے سب سے بڑے مسلم مسئلہ کا جواب ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی حالت ہر جگہ یہ ہورہی ہے جیسے ان کے سامنے کوئی لائحہ عمل نہیں، حالآں کہ قرآن ابدی کتاب کی حیثیت سے محفوظ طور پر ان کے پاس موجود ہے۔
میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں قرآن کے از سر نو الطباق (reapplication) کی ضرورت تھی۔ ۔ مگرمسلمان جدیدحالات پر قرآن کے انطباق میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مثلاً لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی کا مطلب اسباب نزول کی روایات کے مطابق، یہ ہے کہ مدینہ میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زور زور سے بولتے تھے۔ وہ رسول کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتے تھے، قرآن میں اس سے منع کیا گیا اور اس پر حبط اعمال کا اندیشہ بتایا گیا۔ اب اس کا از سر نو انطباق یہ ہے کہ اس کو موجودہ زمانہ میں لوگوں کے اس مزاج پر منطبق کیا جائے کہ ان کے سامنے قرآن و حدیث پیش کیا جائے تو وہ اس کے جواب میں اپنی ذاتی ریزننگ پیش کرنے لگتے ہیں۔ حالآں کہ یہ بھی رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند کرنا ہے اور دوبارہ اس میں حبط اعمال کا اندیشہ ہے۔
اگر ہم ایسا کر سکیں کہ قرآن کی تعلیمات کو از سر نو جدید حالات پر منطبق کریں تو فورا ہی قرآن ہمارے لئے ایک رہنما کتاب بن جائے گا۔ اس میں ہم اپنے آج کے لئے رہنمائی پانے لگیں گے۔ جب کہ آج وہ ہمارے لئے بس ایک مقدس کتاب بن کررہ گیاہے ،اورظاہری احترام کے سوا اس کا کوئی اور حق ہم کو معلوم نہیں۔
۲۵ ستمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ہم نے برمنگھم کی جامع مسجد میں پڑھی۔ یہاں لوگوں کی فرمائش پر نماز سے پہلے آدھ گھنٹہ کی تقریر کی۔ تقریر کا موضوع " اسلامی عبادت" تھا میں نے کہا کہ حدیث میں کہا گیا ہے کہ المساجد بیوت المتقین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجدیں تقوی کی تربیت کا مرکز ہیں۔ اس سلسلہ میں نماز کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ نماز کس طرح آدمی کو متقیانہ زندگی کے لئے تیار کرتی ہے۔
نماز سے پہلے ماہنامہ صراط مستقیم کے مدیر محترم نے ایک انٹرویو لیا۔ سوالات زیادہ تر نہنگان
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues