سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴
کا ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔ یہ مرکز اسلامی دعوت کا کام منظم انداز میں کر رہا ہے۔ وہ گھر گھر اسکیم کے تحت اسلام کا پیغام ہر ایک تک پہنچانا چاہتا ہے۔ (door to door)
۲۶ستمبرکی دوپہر کو برمنگھم سے لندن کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر دوبارہ ٹرین کے ذریعہ طے ہوا۔ دو گھنٹے کے بعد ٹرین ٹھیک وقت پر لندن اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آ کر کھڑی ہوئی۔ ٹرین کے تمام دروازے اپنے آپ کھل گئے اور مسافر ایک کے بعد ایک باہر جانے لگے۔
آپ اس ٹرین (انٹرسٹی) کے ذریعہ لندن اسٹیشن پر پہنچیں اور آپ کو دوسرے مقام پر جانا ہے تو اسٹیشن سے ملحق انڈر گراؤنڈ ٹرین (ٹیوب) موجود ہوگی۔ آپ ایک بورڈ کے اندر پونڈ ڈالئے اور اپنے مقام کے نمبر کا بٹن دبا دیجئے ۔ اس کے بعد آپ کا مطلوبہ ٹکٹ بھی نکل آئے گا اور فاضل رقم بھی۔ آپ آگے بڑھیں گے اور متحرک سیڑھیاں آپ کو نیچے پہنچا دیں گی۔ وہاں لکھا ہوا ہوگا کہ آپ کی مطلوبہ ٹرین ۲ منٹ میں آ رہی ہے۔ اگر ایک ٹرین چھوٹ جائے تو دو منٹ کے بعد دوسری ٹرین آپ کے سامنے کھڑی ہوگی۔
انڈر گراؤنڈ ٹرین پورے شہر کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس لئے برٹش ٹرین بنائی گئی ہے۔ وہ بھی اگر آپ کے لئے کافی نہ ہو تو اس سے اتر کر آپ فورا اپنے مقام کے لئے بس پکڑ سکتے ہیں۔ اس پورے سفر کے دوران آپ کو بار بار ٹکٹ کی لائن میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ ایک بار دن بھر کا ٹکٹ حاصل کر لیجیے۔ اس کے بعد اسی ٹکٹ سے سارے دن ٹیوب، برٹش ریل ، بس تینوں سے سفر کر سکتے ہیں۔
اس طرح کی مختلف چیزیں بتاتی ہیں کہ یہاں کا نظام پیشگی طور پر انسان کی ضرورتوں کا اندازہ کرتا ہے اور قبل اس کے کہ آپ اس سے کہیں، وہ آپ کی ہر ضرورت کا انتظام کرتا چلا جاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ حدیث میں ہے کہ جنت میں تم صرف خواہش کرو گے اور تمہاری مطلوبہ چیز فورا تمہارے سامنے آجائے گی۔ مذکورہ نظام گویا جنت کی اس صفت کا ایک ابتدائی تعارف ہے۔
مسز اسرہ خان (لندن) کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہی ہیں اور اس کے مشن سے کافی متاثر ہیں۔ انھوں نے ٹیلیفون پر باصرار دعوت دی کہ ان کے یہاں ایک پروگرام رکھا جائے۔ اس کے مطابق ۲۷ ستمبر کی شام کو ان کے یہاں پہنچا۔ اجتماع کا انتظام انھوں نے ڈاکٹر مجیب سالم کے مکان پرچیزل
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues