سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۵
ہرٹ اوپر کیا تھا۔ یہاں تعلیم یافتہ مرد اور عورت جمع تھے۔ اس موقع پر میری دو تقریریں ہوئیں۔ پہلی تقریر اقوال رسول کی روشنی میں۔ اور دوسری تقریر رسول اور اصحاب رسول کے واقعات کی روشنی میں۔ پہلی تقریر عشا کی نماز سے پہلے ہوئی اوردوسری تقریرعشاء کی نماز کے بعد۔ مسراسرہ خان نے الرسالہ کے بارہ میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہر مضمون آدمی کے اندر اسلامی فیلنگ کو جگاتا ہے۔ جب ہم اس کا کوئی صفحہ پڑھتے ہیں تو عین اس وقت ہمارا تعلق خدا اور رسول سے جڑ جاتا ہے۔ الرسالہ وقت کے اسلوب میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان کے شوہراردونہیں جانتے۔ وہ صرف انگریزی سمجھ سکتے ہیں۔ وہ اپنے شوہر کو الرسالہ کی باتیں انگریزی زبان میں بتاتی ہیں۔ ۲۶ستمبر۱۹۹۲کو جب میں لندن میں تھا۔ مسٹر فاروق جنگ کے یہاں ٹیلیفون آیا۔ آجکل وہ اپنی فیملی کے ساتھ بون میں مقیم ہیں۔ انھوں نے جرمنی آنے کی دعوت دی۔ مگر لندن سے بون جانا میرے لئے مشکل تھا۔ اس لئے میں ان کی دعوت کو قبول نہ کر سکا۔
انھوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ آپ بروسیلز تک پہنچ چکے ہیں۔ ورنہ ہم بروسیلا اگر آپ کو کار سے بون لے جاتے۔ کیوں کہ بروسیلز سے بون تک بذریعہ کار صرف دو گھنٹہ کا سفر ہے۔ اتفاق سے مجھے اس کا اندازہ نہ تھا۔ ورنہ میں پہلے سے اس کا پروگرام بناتا اور بروسیلز سے بون ضرور جاتا۔
بون (Bonn) جرمنی کی انتہائی قدیم بستی ہے جس کی تاریخ پہلی صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ تاہم ماضی میں اسے زیادہ ترقی نہ مل سکی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس کی ترقی شروع ہوئی اب وہ جرمنی کا سب سے زیادہ خوبصورت شہر سمجھا جاتا ہے۔
اس کی خوبصورتی کا زیادہ بڑا سبب یہ ہے کہ دریائے رینے (Rhine) کے کنارے واقع اس شہر کو ارباب دولت نے اپنی رہائش کے لئے پسند کیا۔ دو سو سے زیادہ دولت مند (millionaires) یہاں آکر آباد ہو گئے۔ تعلیم یافتہ اور خوشحال طبقہ جہاں آباد ہو وہ خوبصورت بستی ہوگی اور جاہل اور غریب طبقہ جہاں آباد ہو وہ بد ہیئت بستی۔
بون سے بہت سی تاریخیں وابستہ ہیں۔ مثلاً مسیحیت کے دومذہبی ادارے اینگلیکن چرچ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues