Al-Risala · November 1994 · page 38

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸

"نظامی" ذہن کے ایک مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ اسلام کو بہتر دنیوی نظام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اس میں آج کے انسان کے لئے زیادہ کشش نہیں کیونکہ اس قسم کا نظام تو آج بھی اس کو حاصل ہے۔ میں نے کہا کہ اسلامی قانون کے نفاذ کا تعلق اصلاً دنیوی آسودگی سے نہیں ہے بلکہ اخلاقی تحفظ سے ہے۔ دنیوی آسودگی زیادہ تر انتم اعلم بامور دنیا کم سے تعلق رکھتی ہے۔

ٹرین میں ایک تعلیم یافتہ انگریز سے ملاقات ہوئی۔ وہ لندن کے مضافات میں رہتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کیرولین مور ہیڈ (Caroline Moorehead) کی کتاب برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) تھی جو ابھی حال میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب برٹرینڈ رسل کا کا ایک تنقیدی مطالعہ ہے۔ مثلاً اس میں رسل کو غیر منطقی (illogical) بتایا گیا ہے۔ مجھے ان سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ ابتدائی تقریب کے بعد میں نے کہا کہ برٹرینڈ رسل کے بارہ میں مور ہیڈ کی اس کتاب کو میں دیکھ چکا ہوں۔ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ برٹرینڈ رسل کے خیالات سے متاثر ہیں۔ خاص طور پر خدا کے وجود کے بارہ میں ان کے خیالات تقریب گاہی میں جو برٹرینڈ رسل کے خیالات تھے۔

انگریز اس طرح کسی اجنبی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن ایک مسافر کے لئے عام انگریز سے بات کرنے کا کوئی اور موقع پانا بھی مشکل ہے۔ اس لئے میں اپنے ایشیائی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قسم کی مداخلت کر لیتا ہوں۔

میں نے کہا کہ میں نے برٹرینڈ رسل کو کافی پڑھا ہے۔ رسل نے لکھا ہے کہ میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا۔ اس کی دلیل رسل نے یہ دی ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ کائنات کو خدا نے پیدا کیا تو فوراََ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کو کس نے پیداکیا۔ مگررسل کا یہ اعتراض سراسر غیر منطقی ہے۔ میں نے کہا کہ رسل بلا شبہ ذہین تھا۔ مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ اس معاملے میں اس کے لئے انتخاب باخداکائنات اوربے خداکائنات میںنہیں ہے۔ بلکہ حقیقی انتخاب باخذ اکائنات اور غیر موجود کائنات کے درمیان ہے۔ چوں کہ ہم مجبور ہیں کہ کائنات کے وجود کو مانیں ، اس لئے ہم اس پر بھی مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو تسلیم کریں :

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page