سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۷
ایئر پورٹ کے کسی افسر نے ان کی طرف توجہ نہ دی۔ نہ ان کی شکایت درج کی گئی اور نہ اس کا دفعیہ کیا گیا۔ ہر ایک نے مستران سنگھ کو بیرونی راستہ دکھایا۔ یہ اس کے باوجود ہوا کہ مستران سنگھ جرمن زبان جانتی تھیں اور اپنی شکایت کو بخوبی طور پر جرمن میں بتا سکتی تھیں۔
یہ رپورٹ خود مستران سنگھ نے چھاپی ہے۔ انھوں نے اس کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ آخر کار میں ایئر پورٹ سے نکل کر ہوائی جہاز میں داخل ہوئی۔ میں کھڑکی کی طرف اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی آنسوؤں کے ساتھ جرمنی کو الوداع کہا جس سے مجھے محبت تھی مگر اب مجھے اس سے ڈرلگ رہاتھا۔ میں میں نے دوبارہ بدھیا اور گاندھی کی سر زمین کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا :
I sat in my window seat, bade a teary goodby to the Germany I had loved but now feared and started my journey back towards the land of Buddha and Gandhi. مستران سنگھ کا یہ تقابل درست نہیں۔ کیوں کہ جرمنی میں جو نسلی امتیاز رنگ کی بنا پر ہے وہی نسلی امتیاز انڈیا میں ذات کی بنا پر موجود ہے۔ اگر انڈیا میں بدھیا اور گاندھی پیدا ہوئے تو اسی طرح جرمنی میں گوئٹے (Goethe) اور رلکے (Rilke) جیسے افراد پیدا ہوئے۔ دونوں جگہ دونوں قسم کے واقعات یکساں طور پر موجود ہیں۔
مستران سنگھ کی غلطی یہ ہے کہ وہ جرمنی کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لئے "ار سلا" کی مثال لے رہی ہیں اور انڈیا کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لئے "گاندھی" کی مثال۔ جنرلائزیشن درست نہیں۔ بیشتر غلط رائیں اسی قسم کے غلط جنرلائزیشن سے بنتی ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ ملک سے ایک اچھی مثال لے کر اس کو عمومی بنا دیتے ہیں۔ اور جو ملک انھیں ناپسند ہو اس کی ایک بری مثال لے کر اس کو عموم کا درجہ دیدیتے ہیں۔ ایسے لوگ اس ملک کے بارہ میں بھی اندھیرے میں رہتے ہیں اور اُس ملک کے بارہ میں بھی۔
میں نے کچھ مسلمانوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے اپنے وطن کو چھوڑ کر مغربی ملکوں میں رہنا کیوں پسند کیا۔ ہر ایک کا جواب تھا کہ یہاں کے سسٹم کی خوبی انھیں یہاں رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ بعض اخلاقی برائیوں سے قطع نظر، ان ملکوں کا سسٹم بڑی حد تک معیاری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues