سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۰
پہلی جلد میں نے دیکھی۔ اس میں مذہب کی بحث کے تحت لکھا گیا ہے :
The whole notion of 'religion' as understood by Muslims is not restricted to rituals and religious observances, but it is an all encompassing concept which includes the social, economic and political: thus it is a way of life. برمنگھم کے ایک مسلمان سے یہاں کے مسلمانوں کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں کی مسلم کمیونٹی اخلاقی اعتبار سے سب سے زیادہ بدنام کمیونٹی ہے۔ عام طور پر یہاں اس کی اچھی امیج نہیں۔ ان کو میں نے کتاب کا مذکورہ مضمون دکھایا۔ میں نے کہا کہ مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب صرف کچھ عبادات اور مذہبی رسوم کا مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے تمام شعبے شامل ہیں۔ مگر زندگی کے معاملات میں مسلمان ہی سب سے زیادہ ناقص ہیں اور جن لوگوں کو آپ محدود مذہبی تصور کا الزام دیتے ہیں وہ زندگی کے معاملات میں آپ سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اسلام کی مذکورہ تعریف جو آجکل بہت زیادہ رایج ہے وہ بذات خود درست نہیں۔ یہ تمام تر رد عمل کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی معاملات میں چرچ کے دخل کو ختم کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے کہا کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے۔ اس کے رد عمل میں مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ یہ کہنے لگا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہاں تیسری تھی۔ یعنی یہ کہ مذہب معرفت خداوندی کا نام ہے اور انسان کو جب خالق و مالک اور محاسب و مجازی خدا کی معرفت ہو جائے تو اس کے اندر ایک ذہنی انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے تمام اختیاری معاملات میں اللہ کی پسند و نا پسند کا لحاظ کرنے لگتا ہے۔
جن لوگوں نے کہا کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، ان کی تعریف کم از کم محدود حد تک انسانی شخصیت کو چھوتی تھی ۔ مگر جدید مسلم مفکرین کی تعریف میں انسانی شخصیت سرے سے گرفت سے باہر چلی گئی۔ اس نظریہ کو ماننے والوں کا سارا دھیان حکومتی ادارہ کی طرف چلا گیا۔ کیوں کہ ان کی تعریف کے مطابق یہ صرف حکومتی ادارہ تھا جس کو قبضہ میں لے کر زندگی کے تمام شعبوں کی تشکیل اپنی مرضی کے مطابق کی جاسکتی تھی۔
ایک بوڑھے انگریز سے بات ہوئی۔ وہ انڈیا کے حالات سے واقف تھا۔ اس نے کہا کہ انڈیا ”
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues