سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱
سے مجھے دلچسپی ہے۔ ایک بار میں نے انڈیا کی سیاحت بھی کی ہے۔ مگر میرا احساس یہ ہے کہ عقلی نقطۂ نظر اور علمی طرزِ فکر کے معاملہ میں ہندوستانی ذہن یورپی ذہن سے بہت پیچھے ہے :
The Indian mind is far less rational and scientific than the European. مذکورہ انگریز کی اس بات کو میں رد نہ کر سکا، کیوں کہ میرا اپنا خیال بھی ہندوستانی ذہن کے بارہ میں یہی ہے۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ پورے برصغیر ہند کی اصل کمی یہی ہے۔ انڈیا کے لیڈروں نے اصل مسئلہ سیاسی آزادی کو سمجھا۔ پاکٹستانی لیڈروں نے مسلم پاک بنانے کو اصل مسئلہ قرار دیا۔ بنگلہ دیش کے لیڈروں نے یہ سمجھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنگلہ زبان اوربنگلہ تہذیب کو ایک آزاد علاقہ حاصل ہو جائے۔ مگر میرے نزدیک یہ سب کی سب سطحی سوچ تھی۔ یہ سب قیادت سازی کے نظریے ہیں، وہ قوم سازی کے نظریے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان خیالات کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریکوں نے کچھ لیڈروں کے گنبد تو ضرور کھڑے کر دئیے۔ مگر یہ تحریکیں قوم کا مستقبل تعمیر کرنے میں سراسر نا کام رہیں۔ لندن کی ایک مجلس میں بوسنیا میں ہونے والے مظالم کا ذکر ہوا۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے پر جوش طور پر کہا کہ عراق نے کویت کے خلاف ظلم کیا تو امریکی حکومت نے الفورس پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آگئی۔ بوسنیا میں سرب اور یوگوسلاوی حکومت نے وہاں کے مسلمانوں کے خلاف ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ مگر امریکہ کی حکومت نے اس کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بش انتظامیہ کے نزدیک صرف ان مسلمانوں کی اہمیت ہے جن کے پاس تیل ہو :
It would appear that only Muslims with oil count for the Bush administration. میں نے کہا کہ اس معاملے میں خود مسلمان ایں گنہ است که در شهر شما نیز کنند کا مصداق ہیں۔ صدام حسین نے کویت کے خلاف جارحیت سے پہلے ایران کے خلاف جارحیت کی اور اور اس کو ۸ سال تک جاری رکھا، مگر ہمارے علماءء اس جارحیت پر خاموش رہے۔ لیکن جب اسی صدام نے کویت کویت(اورسعودی عرب) کے خلاف جارحیت کی تو تمام علما چیخ اٹھے۔ کیوں کہ سعودی عرب اور کویت سے ان علماء کا مفاد وابستہ تھا۔ جب کہ ایران سے ان کا اس قسم کا مفاد وابستہ نہیں۔ المر الہ نومبر ۱۹۹۴
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues