خبر نامه اسلامی مرکز ۱۰۱
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۵۰
سے چھاپ کر شائع کریں گے۔ اسی طرح ناگپور کے ایک سماجی ادارہ انڈیا پیس سنٹر نے اسلامی مرکز سے کہا ہے کہ وہ اسلام پر ایک کتاب (Social teachings of Islam) کے نام سے تیار کرکے دے جس کو وہ اپنے اہتمام میں چھاپ کر اسکولوں اور لائبریریوں کو فراہم کریں گے۔
۱۳| ہندی اخبارراشٹریہ سہاراکے سب ایڈیٹر مسٹر ستیش زائن سنگھ نے ۵ ستمبر ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ دنیا کا نظام عملی تقاضوں پر چلتا ہے۔ اس لئے آدمی کو ذاتی معاملہ میں آئیڈیلسٹ ہوناچاہئے مگراجتماعی معاملات میں اس کو پریکٹیکل بن جانا چاہئے۔
۱۴| بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر آصف جیلانی نے ۶ ستمبر ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد کی مسماری کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمان جس طرح برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں اسی طرح ہندوستان میں بھی رہنے لگیں تو ان کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔
۱۵| ریاض کے عربی ماہنامہ المسلمون کے نمائندہ ڈاکٹر عبد اللہ العویسی اور استاذ عمار بکار نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا تھا۔ یہ انٹرویو مکمل طور پر المسلمون کے شمارہ ۹ ذی الحجہ ۱۴۱۴ھ (۲ مئی ۱۹۹۴ء) میں شائع ہوا ہے۔ اس کے چند عنوانات یہ ہیں : ليس هناك صحوة إسلامية بل صحوة قومية - روح الإسلام تكمن في الاتحاد مع الاختلاف - الجمود الفكرى اخطر مراحل التخلف - واجهتنا المشاكل عند ما قصرنا في الدعوة - ۱۶| ستمبر ۱۹۹۴ میں صدر اسلامی مرکز نے بمبئی کا سفر کیا۔ وہاں شہر کے مختلف علاقوں میں کئی دعوتی اور تربیتی میٹنگیں ہوئیں۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کردی جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues