فطرت انسانی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۵۸
فطرت انسانی
لاہور کے اردو روز نامہ نوائے وقت کے شمارہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۳ میں ایک خبر چار سطری سرخیوں کے ساتھ چھپی ہے۔ اس میں بہت سبق ہے۔ وہ خبر نوائے وقت کے الفاظ میں یہ ہے: سابق سوویت یونین کے تین جنگی قیدیوں نے رہائی کے بعد افغانستان سے اپنے وطن واپس جانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ افغانستان میں ہی قیام کرنا چاہتے ہیں۔ ان جنگی قیدیوں کو افغانستان کے وزیراعظم گلبدین حکمت یار اور روسی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد پہلے مرحلے میں رہائی ملی۔ بی بی سی کے مطابق ان تین قیدیوں میں سے ایک کا تعلق یوکرائن اور دو کا تعلق روس سے ہے۔ رہائی پانے والے ان مذکورہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے بے حد متاثر ہوئے ہیں اور اسلام کی محبت سے معمور ہو کر اپنی باقی زندگی افغانستان میں ہی گزارنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے اس فیصلے سے افغانستان میں روس کے ناظم الامور کو آگاہ کر دیا ہے۔ جنھوں نے گزشتہ روز شمالی افغانستان میں ان سے ملاقات کی۔ روسی ناظم الامور اپنی ہر ممکن کوشش کے باوجود انھیں وطن واپس جانے پر قائل نہ کر سکے۔ اس مرحلہ پر روس کے ناظم الامور نے افغان وزیر اعظم حکمت یار سے بھی وائریس پر بات کی لیکن افغان وزیر اعظم نے انھیں جواب دیا کہ رہائی پانے والے قیدی اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں گے۔ رہائی پانے والے روسی قیدیوں کا کہنا ہے کہ قید کے دوران ان سے قیدیوں والا نہیں بلکہ مجاہدین گروپوں کے ارکان جیسا سلوک کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ حکمت یار گروپ کی قید میں رہے۔ افغانستان میں سابق سوویت یونین کے مزید ۸۰ جنگی قیدی موجود ہیں۔ اس خبر پر غور کیجئے! جب تک روسی فوج اور افغانی فوج میں جنگ ہو رہی تھی، دونوں ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ مگر جب دونوں کے درمیان لڑائی بند ہو گئی اور امن کے حالات میں دونوں کو ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع ملا تو دونوں ایک دوسرے کے دوست ہو گئے۔ حتیٰ کہ روسی فوجی نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر آدمی اسی دین فطرت پر پیدا ہوا ہے۔ کوئی آدمی صرف غیر معتدل حالات میں ہی اپنی فطرت سے بیگانہ ہو سکتا ہے۔ حالات میں اعتدال آتے ہی ہر آدمی اپنی فطرت کو پہچان لے گا اور فطری دین کو اپنا دین بنا لے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues