Al-Risala · February 1994 · page 59

ابدی امکان

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۵۹

ابدی امکان

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو امور کائنات کا نظم کر رہا ہے، اور وہ اللہ ہی ہے جو اپنے پیغمبروں کے اوپر اپنی آیتیں نازل کرتا ہے (يدبر الآمري فصل الآيات) الرعد ۲ اس سے معلوم ہوا کر کائناتی واقعات، مثلاً زمین کی گردش یا بارش کا برسنا، خدا کے حکم کے تحت ہوتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ بھی خدا کے حکم کے تحت رہیں۔ دونوں ہی خدائی مقدرات ہیں۔ کوئی شخص اس پر قادر نہیں کہ وہ زمین و آسمان کے نظام میں تبدیلی پیدا کر دے۔ اسی طرح کوئی اس پر بھی قادر نہیں کہ وہ حیات انسانی کے بارہ میں خدا کے مقرر کیے ہوئے قوانین کو بدل دے۔ حیات انسانی کے بارہ میں قرآن میں جو قوانین بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہاں مسائل ہی مسائل ہوں، اور مواقع کا بالکل خاتمہ ہو گیا ہو۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ جہاں کچھ مشکل ہوگی وہیں آسانیاں بھی اسی کے ساتھ ضرور موجود رہیں گی (فإن مع العسر يسرا۔ إن مع العسر يسرا) الانشراح کوئی شخص، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور ہو، اس پر قادر نہیں کہ وہ آپ کے اوپر صبح کے آنے کو روک دے۔ رات کے بعد ضرور صبح آئے گی اور آپ کے گھر کے اوپر اس کی روشنی پھیل کر رہے گی۔ اسی طرح کسی کے بس میں یہ بھی نہیں کہ وہ آپ کو ایسی مشکل میں ڈال دے کہ اس کے بعد آسانی کی کوئی صورت آپ کے لیے باقی ہی نہ رہے۔ یہ خدائی مقدرات میں سے ہے کہ مشکلاتِ راہ کے ساتھ عین اسی وقت مواقع کار بھی آپ کے لیے موجود ہیں۔ یہ خدا کا مقرر کیا ہوا ایک محکم قانون ہے، اور اس کو بدل دینا کسی بھی شخص یا گروہ کے لیے کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مایوسی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ جو آدمی خدا پر یقین رکھتا ہے۔ اس کو اس نظامِ خداوندی پر بھی محکم یقین رکھنا ہے کہ اس دنیا میں اس کے لیے راہیں کبھی بند نہیں ہوں گی۔ اس کے لیے اس دنیا میں امید کا پہلو ہمیشہ باقی رہے گا۔ اور جب خدا نے امید کے پہلو کو اتنا زیادہ یقینی بنا دیا ہو تو اس کو یہ بھی حق ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے مایوسی کو حرام قرار دے دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page