جنت کے کنارے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۵
جنت کے کنارے
عن ابی ھریرۃ قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا مررتم بریاض الجنة فَارتَعُوا۔ وسلم نے فرمایا۔ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو قیل یا رسول الله وما رياض الجنة ۔ قال تو اس سے چر لیا کرو۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول، المساجد (وحلَق الذکر) قيل وما الِرتَعُ جنت کے باغ کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مسجدیں اور یا رسول الله ۔ قال : سبحان الله والحمد الله ذکر کے حلقے۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول، چرنا کیا ولا إله إلا الله والله أكبر ۔ ہے۔ آپ نے فرمایا : سبحان اللہ اور الحمد للہ اور (مشکوۃ المصابیح ۱/ ۲۲۷ - ۲ / ۴۰۳) لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر۔
آدمی جب دنیا میں چلتا پھرتا ہے تو اس کے سامنے ایسے مواقع آتے ہیں جو اس کے خدائی احساسات کو جگاتے ہیں۔ کبھی مسجد اس کو خدا کی معبودیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کبھی ذکر خداوندی کی مجلسیں اس کو خدا کی صفات کی یاد دلاتی ہیں۔ کبھی کائنات کی نشانیاں اس کو خدا کے عظمت و جلال کی جھلک دکھاتی ہیں۔
اس قسم کے تجربات آدمی کو جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے کنارے پہنچا دیتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر ان احساسات کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو اس کو جنت میں پہنچانے والے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان مواقع سے استفادہ کرے اور ان سے جبتی غذا لے کر اپنے آپ کو جنت میں بسنے کے قابل بنالے۔
ان تجربات کے درمیان آدمی کے اوپر اتنا شدید تاثر طاری ہونا چاہیے کہ اس کی روح حقیقت اعلیٰ سے مربوط ہو جائے۔ اس کے ابلتے ہوئے احساسات ان الفاظ میں ڈھل جائیں کہ خدا یا، تو پاک ہے۔ سارا شکر اور ساری تعریف تیرے لیے ہے۔ تو ہی معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ساری بڑائی صرف تیرے لیے ہے، تیرے سوا کسی کو بھی کوئی بڑائی حاصل نہیں۔ دنیا میں آدمی کو اس طرح رہنا ہے کہ وہ یہاں کے مناظر میں جنت کی جھلک دیکھنے لگے۔ اس کے بعد ہی وہ جنت کے باغوں میں چرنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues