Al-Risala · December 1994 · page 6

نقطہ انقلاب

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۶

نقطہ انقلاب

عمر بن عبدالعزیز تابعی بنو امیہ کے ایک خلیفہ تھے۔ ان کے عالم اور زاہد اور خلیفہ راشد ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ صحابہ کے بعد ان کا مقام امت میں سب سے زیادہ بلند مانا جاتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنی ابتدائی زندگی میں ایک خوش باش اور خوش پوش انسان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے ۔ وہ پر تکلف زندگی گزارتے تھے۔ آخر عمر میں وہ بالکل بدل گئے۔ اس تبدیلی کے لیے جو واقعہ نقطہ آغاز ثابت ہوا وہ یہ تھا :

قال عبد الله بن كثير قلت لعمر بن عبدالعزيز عبد الله بن کثیر کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ما كان بدء أنابتك - قال اردت ضرب غلام پوچھا کہ آپ کی انابت کا آغاز کیسے ہوا۔ انھوں نے لى فقال لى اذكر ليلة صبيحتها يوم القيامة کہا کہ میں نے اپنے ایک غلام کو مارنا چاہا تو اس نے (البداية والنهاية ۱۹۵/۹) کہا کہ اس رات کو یاد کرو جس کی صبح قیامت کا دن ہے جب آدمی کے اندر زندگی ہو، جب آدمی کے اندر قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہو تو ایک جملہ اس کو بدلنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب اس کی روح مردہ ہو جائے ۔ جب اس کی قبول کرنے کی صلاحیت زندہ حالت میں باقی نہ رہے تو ہر دلیل اس کے لیے بے کار ہے۔ اس کے بعد کسی بھی قیمت پر وہ حق کو قبول کرنے والا نہیں، خواہ حق کو کتنا ہی زیادہ دلائل کے ساتھ اس کے سامنے بیان کر دیا گیا ہو ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے غلام کو مارنا چاہتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلام سے ان کو کوئی سخت شکایت پیدا ہو گئی تھی ۔ اس کے باوجود غلام کی بات نے ان کو ہلا دیا۔ یہ کسی انسان کے لیے انتہائی عظمت کی بات ہے۔ ایک شخص جس سے تکلیف پہنچی ہو۔ جس نے سخت شکایت کا موقع دیا ہو، اس کی بات سے مثبت اثر لینے کے لیے بہت اونچی انسانیت درکار ہے۔ مگر اس دنیا میں وہی لوگ اونچی ایمانی ترقی کرتے ہیں جو اس قسم کی اونچی انسانیت کا ثبوت دے سکیں۔ مردہ انسان کے لیے شکایت کا واقعہ اختتام کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر زندہ انسان کے لیے شکایت کا واقعہ ایک نے دور کا آغاز بن جاتا ہے۔

6 الحسال دسمبر ۱۹۹۰

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page