عقل سے کام نہ لینا
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۱
عقل سے کام نہ لینا
ولا تكونوا كالذين قالوا سمعنا وهم (اے ایمان والو) اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ لا يسمعون ۔ ان شر الدواب جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ عند الله الصم البكم الذين یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے، لا يعقلون (الانفال ۲۱ - ۲۲) گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔ قرآن کی اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ سب سے زیادہ برے جانور وہ لوگ ہیں جو نماز نہیں پڑھتے، جو داڑھی نہیں رکھتے، جو ملی تشخص کو اختیار نہیں کرتے ۔ بلکہ یہ فرمایا کہ سب سے زیادہ برے، جانور وہ لوگ ہیں جو حق کو سننے کے لیے بہرے بنے ہوئے ہیں، جن کے سامنے حق کی بات آتی ہے مگر اس کو وہ اپنے دماغ میں جگہ نہیں دیتے ۔ وہ اس کو اس طرح لیتے ہیں جیسے کہ انھوں نے اس کو نہ سنا اور نہ سمجھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اندھا پن یا بے عقلی ایک ایسا جرم ہے جو نماز اور داڑھی اور ملی تشخص کو چھوڑنے سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔
اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فہم و تدبر انسان کی سب سے اعلیٰ صفت ہے۔ اسی بنیاد پر اس کو دوسری مخلوقات پر نوعی امتیاز حاصل ہوا ہے۔ جو آدمی فہم و تدبر کھودے اس نے گویا اپنی خصوصیت بشری کو کھودیا۔ اور جو مخلوق اپنی نوعی خصوصیت کو کھو دے اس کے بعد عین فطری ہے کہ وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے ۔
"لا يعقلون" سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے سامنے سچائی لائی جائے مگر وہ اس کو اہمیت نہ دے سکے۔ وہ اس کو الٹے مفہوم میں لے کر اسے نظر انداز کر دے۔ وہ اس کو کمتر قرار دے کر اس کا مذاق اڑائے۔ وہ عقل کو استعمال کرکے اس کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے بلکہ فوری تاثر کے تحت اس پر غیر متعلق رائے زنی کرنے لگے۔ اس کا رد عمل بے عقلی کا رد عمل ہو نہ کہ عقل کا رد عمل۔ ایسے لوگ اعتراف کی لذت سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی روح صرف کثیف چیزوں کا ادراک کرتی ہے۔ لطیف چیزوں کو اپنی خوراک بنانے کی صلاحیت ان کے اندر باقی نہیں رہتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues