صلح بہتر ہے
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۰
صلح بہتر ہے
اسلام کا عام مزاج یہ ہے کہ اختلافی معاملات میں ٹکراؤ کے بجائے موافقت کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اس کو مختصر اور جامع لفظ میں الصلح خیر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ مزاج عام انسانی تعلقات سے لے کر شوہر اور بیوی تک کے تعلقات میں مطلوب ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وإن امرأة خافت من بعلها اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے نشوزا او اعراضا فلا جناح عليهما بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج ان يصلحا بينهما صلحا والصلح نہیں کہ دونوں آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے۔ خير واحضرت الانفس الشح اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور وإن تحسنوا وتتقوا فان الله كان اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو بما تعملون خبيرا (النسا ء ۱۲۸) کچھ تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔
مرد و عورت یا دو آدمیوں کے درمیان تعلقات بگڑنے کا سبب اکثر حالات میں تنگدلی ہوتا ہے۔ ایک عورت یا مرد کو جتنا سلوک کسی سے مل رہا ہے اس پر وہ قانع نہیں ہوتا بلکہ اس سے زیادہ کی طلب کرنے لگتا ہے۔ اس سے دونوں کے درمیان بد مزگی پیدا ہو جاتی ہے۔ جو بڑھتے بڑھتے قطع تعلق تک پہنچ جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ہدایت کی گئی کہ دونوں ایک دوسرے کی رعایت کرنا سیکھیں، اور جب آپس میں کوئی اختلاف یا شکایت پیدا ہو تو اس کو بڑھانے کے بجائے اس کو گھٹائیں، وہ ایک دوسرے کے حریف نہ بنیں بلکہ آپس میں صلح کر کے معاملہ کو ختم کر دیں۔ معاملات میں صلح کر لینا ہر حال میں بہتر ہے ، خواہ وہ کسی بھی قیمت پر حاصل ہو۔
الصلح خیر کا یہ اصول صرف شوہر اور بیوی کے اختلافی معاملات کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام اختلافی معاملات کے لیے ہے ۔ جب بھی دو شخصوں یا دو گروہوں کے درمیان جھگڑے کی کوئی صورت پیدا ہو تو ہر جگہ اسی بنیادی اصول کو رہنما بنانا ہے ۔ صلح ہمیشہ کرو انکسار یا لو اور دو کے طریقہ پر ہوتی ہے۔ اس لیے صلح کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نزاع پیدا ہو تو اکڑنے کا طریقہ چھوڑ دو اور نرمی اور جھکاؤ والا انداز اختیار کرو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues